ایرانی ری ٹیل بزنس، چھتیس برس کی بین الاقوامی اقتصادیوں کا کیا اثرپڑا؟

عبیداعوان

چھتیس برس سے ایران مختلف بین الاقوامی پابندیوں کا شکار رہاہے، اس سارے عرصہ میں پوری دنیا میں ایرانی قوم تنہا ہوگئی، کوئی بھی دوسرا ملک چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے اس سے لین دین نہیں کرسکتاتھا۔ ایران تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہوتا اگر اسے دنیا میں تیل برآمد کرنے کی اجازت ہوتی۔ بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں نہ عائد ہوتیں تو ایرانی مصنوعات آج دنیا کی ری ٹیل انڈسٹری میں نمایاں مقام رکھتیں اور بذات خود ایران ایک بڑی منڈی ہے، مغربی ممالک ایران کے انقلاب کی دشمنی میں مبتلا نہ ہوتے تو آج وہ بھی اس بڑی منڈی سے استفادہ کررہے ہوتے۔چھتیس برس بعد انھیں ہوش آیا اور اب وہ ایران سے جوہری معاہدہ کرکے  ایرانی منڈیوں کی طرف دوڑ لگارہے ہیں۔ ایرانی قوم بھی مغربی مال کو اپنے طرز زندگی کا حصہ بناناچاہتی تھی لیکن مغربی ممالک نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔

پورے تہران میں جگہ جگہ سڑکوں پر رولیکس اور لوئی ویتوں جیسے بڑے برانڈز کے اشتہارات اور شاپنگ سینٹر دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایران میں بڑے برانڈز کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایران میں انقلاب کے بعد کئی عشروں کی معاشی تنگی کے بعد مڈل کلاس نے بڑے برانڈز کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور تہران کے امیر ترین نوجوانوں کے لیے شاپنگ ایک نیا مذہب ہے۔30 سالہ فیشن بلاگر بہار کا کہنا ہے: ’انٹرنیٹ، سیٹلائٹ ٹی وی اور بیرونی ممالک میں سفر کرنے سے لوگوں میں بڑے برانڈز کے کپڑے پہننے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔‘ تہران کے بعض امیرترین نوجوانوں نے اپنی برانڈیڈ مصنوعات کی نمائش کرنے کے لیے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا ہے جس میں وہ اپنے ڈیزائنر کپڑوں اور ڈیزائنر طرزِ زندگی کی تصاویر شائع کرتے ہیں۔ جب یہ سائٹ منظر عام پر آئی تو اس وقت غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام اور ایران کے سیاسی اور آئینی عہدوں پرفائز قدامت پسندوں نے غصے اور نفرت کا اظہار کیا تھا لیکن بظاہر ان امیر ترین ایرانی نوجوان پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آیا اور وہ بدستور اس ویب سائٹ پر اپنی ڈیزائنر زندگی کی نمائش کر رہے ہیں۔ اس ویب سائٹ پر حال ہی میں تہران فیشن ویک کی تصاویر شائع کی گئیں اور لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ اس برس چھٹی منانے کہاں جا رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں لوگوں نے دبئی، ترکی، استنبول، اٹلی اور جاپان جیسے ممالک جانے کے ارادے کے بارے میں بتایا۔

چونکہ قیمتی برانڈز ابھی تک صرف امیر طبقے ہی کا شوق ہیں، اسی لیے ایران کی ’کسٹمز اتھارٹی لسٹ‘ میں درآمد ہونے والی 100 مصنوعات کی فہرست میں یہ میں قیمتی برانڈز شامل نہیں ہیں لیکن اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ میک اپ سے متعلق مہنگے برانڈز کی مصنوعات کی برآمد میں اضافے کی گنجائش ہے۔ 2015 میں ملک میں درآمدات کی کل مالیت 52 ارب ڈالر تھی جس میں میک اپ سے متعلق مصنوعات اس مالیت کا 0.1 فی صد تھیں۔

تہران کے بڑے شہروں میں روایتی بازاروں کو امریکی طرز کے شاپنگ مالز سے خطرہ لاحق ہے۔ تہران کے شاپنگ مالز بھی دنیا میں دوسرے ملکوں کے بڑے شاپنگ مالز جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن ان میں جو قیمیتی ڈیزائنر مصنوعات فروخت ہوتی ہیں وہ ترکی اور خلیجی ممالک میں کاروبار کرنے والے ڈیلر سپلائی کرتے ہیں۔ جو شاپنگ مالز یہ مصنوعات فروخت کرتے ہیں ان کا ان مصنوعات بنانے والی کمپنیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ایران پر مغربی فیشن برانڈز کی تجارت کرنے پر پابندی نہیں ہے۔ لیکن ایران کے جوہری پروگرام کے سبب اس پر عالمی بینکوں سے متعلق پابندیوں کے سبب ان برانڈز کے لیے وہاں کاروبار کرنا تھوڑا مشکل ضرور ہوتا تھا جو آنے والے دنوں میں آسان ہوجائے کیونکہ اب مغرب اور ایران کے مابین جوہری پروگرام  کے موضوع پر ایک بڑا معاہدہ ہوچکاہے۔ اس معاہدے کا مطالعہ کیاجائے، مغربی حکومتوں کی پھرتیاں دیکھی جائیں تو بادی النظر میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ مغرب ایران کی تجارتی منڈیوں میں اپنا سامان بیچنے کے لئے رسائی چاہتاتھا۔ مغرب کو معاشی دباؤ کے اس دورمیں زیادہ سے زیادہ منڈیوں کی تلاش ہے۔ چین پوری دنیاکی منڈیوں پر قابض ہوتاجارہاہے جبکہ مغرب دیکھتا ہی رہ جاتاہے۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ ابھی ایران مغرب معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ یورپی رہنما اور کاروباری افراد نے ایئرپورٹ کی طرف روانگی اختیار کر لی تاکہ ایران منڈیوں کے ساتھ دوبارہ لین دین کا سلسلہ جوڑا جا سکے۔ یہ کاروباری شخصیات اس معاہدہ کو سرمایہ کاری کے حوالے سے بڑا موقع قرار دے رہے ہیں۔

 ”نیویارک ٹائمز“ کی رپورٹ کے مطابق 14جولائی کو ہونے والے معاہدے کے پانچ دن بعد ہی جرمنی نے ایک وفد ایران بھیج دیا۔ فرانس کے وزیر خارجہ  بھی فوراً تہران پہنچے ہیں۔ اطالوی وزرا بھی بھاگم بھاگ تہران پہنچے، ان کے ساتھ ایک بڑا کاروباری وفد بھی شامل تھا، ستمبر میں فرانس کے سب سے بڑے 70سے 80کاروباری افراد تہران میں بیٹھے نظرآئے۔ ’نیویارک ٹائمز‘ بھی اعتراف ان الفاظ میں کرتاہے ” یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی تگ و دو کے پیچھے ایران کی منڈیوں میں نظر آنے والی کشش بھی شامل تھی“۔

اب ایرانی انتظامیہ کو فکر ہے کہ مغرب ایران جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ملک میں معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو سکتی ہیں کیونکہ صارفین ملک میں بین الاقومی برانڈ کی مصنوعات کی آمد کے انتظار میں مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیا کی  خریداری  روک دیں گے۔ صارفین اس حوالے سے پرجوش ہیں کہ کاروں، فریج اور ٹیلی ویژن کی خریداری میں زیادہ انتخاب اور مقابلے کی فضا کی وجہ سے مقامی صنعت کار اپنی مصنوعات اور قیمت کو بہتر کریں گے۔ جولائی میں طے پانے والے معاہدے کی وجہ سے ممکنہ طور پر اس نئے سال میں ایران پر عائد پابندیاں اٹھالی جائیں گی جس کی وجہ سے غیر ملکیوں کے لیے ایرانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری یا ایران کے لیے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ ایرانی مرکزی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق (جوہری) معاہدے کے طے پانے کے بعد سے ایرانی صنعت کاروں کو  افراط زر کے مقابلے میں چیزوں کی قیمت فروخت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا  ہے جبکہ عہدیدار اور تجزیہ کاروں نے بھی بیان کیا ہے کہ صارفین کی طرف سے بھی (مقامی مصنوعات کی) خریداری میں کمی واقع ہوئی ہے۔

لندن کی ایک مشاورتی کمپنی بیٹا میٹریکس سے منسلک ماہر اقتصادیات مہر داد حمادی کا کہنا ہے کہ ایرانی صارفین یہ جان گئے ہیں کہ مغربی کاروباری کمپنیوں کے ایران میں آنے سے انہیں جلد ہی استعمال کی متبادل اشیا مسابقتی قیمت اور ایک معقول حد تک اعلیٰ معیار اور بعد از فروخت کی خدمات کے ساتھ ان کو فراہم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ اس مقابلے کی وجہ سے آنے والے وقت میں ایرانی معیشت کے لیے یہ امر سود مند ہوگا اور صارفین کی طرف سے غیر ملکی مصنوعات اور قیمتوں کی کمی کی توقع کے پیش نظر یہ مقامی صنعت کاروں کے لیے بھی ایک چیلنج ہو گا۔ اس سے قبل سرکاری نیوز ایجنسی بھی ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری کے حوالے سے یہ بتا چکی ہے کہ ”بدقسمتی سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جوہری معاہدے کے بعد قیمتوں میں فوری کمی ہو گی اور اس کی وجہ سے مارکیٹ کو کساد بازاری کا سامنا ہے“۔ ایک طرف ایرانی صارفین کا خیال ہے کہ ایک آزاد تجارتی مارکیٹ کی وجہ سے انہیں اشیا کے خریداری میں وسیع انتخاب کا موقع مل سکتا ہے جبکہ  زیادہ تر پالیسی ساز مقامی صنعت اور اقتصادی ترقی کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی ری ٹیل انڈسٹری کا سارا سٹرکچر ابھی تک روایتی ہی ہے۔ حالانکہ ایران کے تمام ہمسائیہ ممالک میں ریٹیل انڈسٹری جدت کی راہوں پر گامزن ہے۔ ایران میں آج بھی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی دکانیں قائم ودائم ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ گزشتہ 36برس سے ایران میں غیرملکی سرمایہ کاری نہیں آئی۔ کچھ ایران کی اپنی پابندیاں اور کچھ بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں سبب بنیں۔ جنھوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ایران میں داخل ہونے کا موقع ہی نہ دیا۔

اس وقت ایران میں ہرطرف روایتی بازار ہیں جہاں سے زیادہ تر ایرانی خریداری کرتے ہیں۔ روایتی کاروبار میں امپورٹرز بھی شامل ہیں اور ہول سیلرز بھی۔ ظاہر ہے کہ مینوفیکچرز بھی اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ مختلف برانڈز کے بارے میں شعور کی سطح بھی اسی لئے نچلے درجے پر رہتی ہے، عموماً کسٹمرز نئے برانڈز خریدنے سے پہلے ری ٹیلرز ہی سے مشورہ کرتے ہیں۔ اس رویے کا تمام برانڈز کی خریدوفروخت پر خاصا اثر پڑتاہے۔

بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں اور ان کے نتیجے میں جی ڈی پی کمزور  اور مہنگائی، بے روزگاری کی شرح روزافزوں ہوئی۔ اس سب کچھ نے ری ٹیل انڈسٹری پر نہایت برے اثرات مرتب کئے۔ جن لوگوں کی تنخواہیں لگی بندھی ہیں، ان کے پاس صلاحیت ہی باقی نہیں بچی کہ وہ زیادہ بڑی تعداد میں مصنوعات خرید سکیں۔ قوت خرید کی کمی کے باعث مختلف شعبوں میں کنزیومرز کا رویہ تبدیل ہوچکاہے۔ بعض اوقات کسٹمرز سٹورمیں جاکر خریداری کرکے اپنا تھیلا بھر لیتے ہیں لیکن بل زیادہ بنتاہے تو انھیں خریدی ہوئی مصنوعات میں سے کچھ کم کرناپڑتی ہیں۔ صرف وہی اشیاء خریدتے ہیں جنھیں بہرصورت خریدنا ہی ہوتاہے۔دوسری صورت میں وہ کم معیار کی اشیاء خریدتے ہیں اور اپنی لسٹ کے مطابق خریداری مکمل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سب کچھ کا اثر ری ٹیلرز پر پڑتاہے، وہ اپنے سٹور کی شیلفیں صرف اور صرف خریدار کی قوت خرید کے مطابق ہی بھرتاہے۔ جیسا کہ سابقہ سطورمیں عرض کیاجاچکاہے کہ  ایران میں  جدید ری ٹیلنگ کے بجائے زیادہ تر روایتی ری ٹیلنگ ہورہی ہے۔ اس لئے یہ سارے روایتی ریٹلرز کسٹمرز کی قوت خرید کے زیادہ غلام ہوتے ہیں۔ ہول سیلرز تہران کے مرکزی بازار سے سامان لیتے ہیں، یہ شہر کے عین قلب میں واقع ہے۔ یہاں چین ریٹیلنگ  بہت محدود ہے۔ سن 2015ء میں ایرانیوں کو پیک چاول خریدنے کی طرف راغب کیا گیا۔ روایتی طورپر یہاں کے لوگ کھلی مقدارمیں چاول خریدتے ہیں کیونکہ اس قسم کے چاول ان کی استطاعت میں ہوتے ہیں جبکہ پیک چاول نسبتاً مہنگے ہوتے ہیں۔ تاہم گزشتہ برس ٹیلی ویژن پر مختلف کمرشلز کے ذریعے ایرانی قوم کو پیک چاول کی اہمیت اور افادیت بتائی گئی۔ یہ ایک پوری مہم تھی۔ اس شعبہ میں ’گلستان‘ اس وقت ایک لیڈر کے طورپر کردار اداکررہاہے۔ پیک چاول کی ریٹیل میں گلستان کا حصہ 41فیصد رہا۔ دوسرا بڑا برانڈ ’پردیس‘ ہے۔ ’گلستان‘ برانڈ کی کمپنی پیک چاولوں کی پہلی سپلائر ہے۔ یہ چاول کے مختلف برانڈز گاہکوں کی قوت خرید کے مطابق تیارکرکے مارکیٹ کو فراہم کرتی ہے۔ گلستان اعلیٰ معیار کا چاول ہوتاہے، یہ مقامی ہے جبکہ ’پردیس‘ برانڈ بھارت سے درآمد شدہ چاول پر مشتمل ہوتاہے۔ یہ کم معیاری ہوتاہے لیکن اکثریت کی قوت خرید کے مطابق ہوتاہے۔

چھتیس برس کی اقتصادی پابندیاں اگر کسی دوسرے ملک پر عائد ہوتیں تو وہاں کی قوم کسی مفلوک الحال افریقی قوم سے مشابہہ ہوجاتی لیکن آفرین ہے ایرانی قوم پر کہ اس نے دنیا بھر کی مخالفت کا پوری ہمت اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔ آج بھی ایرانی قوم کے چہرے دیکھ کر محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کبھی ایک دن بھی کسی مشکل کا شکار رہی ہوگی۔

ایران میں تین ہی بڑی سپرمارکیٹ چین ہیں۔ پروما ہائپرمارکیٹ، رفاہ اور شہروند۔ ’پروما‘ کا آغاز تین شہروں مشہد، تہران اور قزوین سے ہواتھا۔ اس کا مشہد میں 420,000مربع میٹر رقبہ پر محیط ایک سپرمال ہے جس میں 430دکانیں ہیں۔ رفاہ کا آغاز دارالحکومت تہران ہی سے ہواتھا۔ اس وقت اس کی پورے ملک میں 160سپرمارکیٹیں ہیں جہاں فوڈ، بیوریجز، تازہ مصں وعات، ہائی جینک اور کاسمیٹکس، ہوم ایپلائنسز، الیکٹرانکس،ملبوسات، ٹیکسٹائل مصنوعات اور سینیٹری وغیرہ کی وسیع ورائٹی دستیاب ہے۔ اس کمپنی کا سلوگن ہے ’بہتر معیار، کم تر قیمتیں‘۔ کمپنی آن لائن خریداری کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ کمپنی گزشتہ 20برس سے ریٹیل بزنس کررہی ہے۔ ’شہروند‘ نے بھی تہران سے کاروبار شروع کیا۔ اس وقت اس کمپنی کی صرف دارالحکومت تہران میں 31سپرمارکیٹیں ہیں۔ یہ کمپنی 21برس سے بزنس کررہی ہے۔ ان کے علاوہ بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی ایران میں مارکیٹیں کھول رکھی ہیں۔ ان میں ایک ’آل ان آل‘، نجم خاورمیانہ اور ہائپرسٹار شامل ہیں۔ ان سپرمارکیٹوں کی طرف ایران کا امیر طبقہ  ہی رخ کرتاہے۔ متوسط طبقہ عام دکانوں سے اشیائے صرف خریدتاہے جبکہ سب سے نچلا طبقہ سب سے چھوٹی دکانوں کے چکر ہی لگاتا رہتاہے۔

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo