ترکمانستان جسے ماضی میں ترکمانیہ کے نام سے جانا پہنچانا جاتا تھا۔ وسطی ایشیا کی ایک ترک نژاد ریاست ہے جس کی سرحدیں قازقستان، ازبکستان، افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں۔ ترکمانستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سیاحتی صنعت کی توسیع کی بے حد گنجائش موجود ہے۔ ترکمانستان کے تین مقامات عالمی ورثے میں شمار ہوتے ہیں۔ نیسا، ماروو، کونیے ارجنچ۔
ملک میں پہلی ہائپر مارکیٹ ایک لاکھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے جو سن 2014 میں قائم ہوئی۔ یہ ہائپر مارکیٹ دارالحکومت عشق آباد میں ہے، اس میں جہاں ہائپرمارکیٹ ہے وہاں دفاتر بھی ہیں، سینما ، ملبوسات کے مراکز بھی ہیں اور پارکنگ بھی جہاں 1400 کاریں کھڑی ہوسکتی ہیں۔
عشق آباد ہی میں ترکمانستان کا سب سے بڑا اور وسطی ایشیا کا پانچواں بڑا مشرقی بازار بھی واقع ہے، اس میں 2155 دکانیں قائم ہیں۔ دور سے دیکھنے میں یہ قالینوں کی کوئی بڑی مارکیٹ نظر آتی ہے ۔ یقیناً یہاں ترکمانستان میں بننے والے قالین بھی بڑی تعداد میں بکتے ہیں تاہم دستکاری کا سامان بھی ہوتا ہے ، ریشم بھی، جیولری،جینز، لانڈری سوپ،پلاسٹک بیگز اور چاول کے بڑی بڑی بوریاں بھی نظر آتی ہیں۔ اتوار کے روز یہاں رش کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ بازار میں کاروبار کرنے والے ہائی سپیڈ کا انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔
اگر ہم یہاں کی ری ٹیل دنیا میں فوڈ کے شعبے کا جائزہ لیں تو سب سے زیادہ گوشت کی مصنوعات فروخت ہوتی نظر آتی ہیں، اس کے بعد آلو، پھل اور دیگر سبزیوں کا نمبر آتا ہے۔ نان فوڈ اشیاء میں کپڑے، جوتے اور کنسٹرکشن کا سامان زیادہ فروخت ہوتا ہے۔ کھانے پینے کی مصنوعات کی قیمتیں زیادہ نہیں ہوتیں، لوگوں کی قوت خرید کو مدنظر رکھاجاتا ہے۔ایک گھرانے کے بجٹ کا 54 سے 56 فیصد حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں استحکام نظر آیا جو ری ٹیلرز اور خریداروں، دونوں کے لئے اطمینان کا باعث ہے۔
ترکمانستان کی ری ٹیل مارکیٹ میں درآمدات کا حصہ 41 فیصد ہے۔ ری ٹیل کی دنیا میں کام کرنے والوں میں 70 فیصد مرد اور 30 فیصد خواتین ہیں، حالیہ چند برسوں کے دوران خواتین کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ترکمانوں کی اچھی خاصی تعداد شٹل تجارت یعنی ایک ملک سے سامان لے کر دوسرے ملک میں فروخت کرنے کو زیادہ منافع بخش سمجھتی ہے ۔ ترکمانستان کی آزادی کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں نے ایک دوسرے کے شہریوں کے اپنے ہاں سفر پابندی عائد کردی ، نتیجتاً اس قسم کی تجارت میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ تاہم بعدازاں یہ پابندیاں اٹھا لی گئیں یوں ایک بار پھر شٹل تجارت شروع ہوگئی۔اس قسم کی تجارت کے نتیجے میں انسان نت نئے کاروبار کے لئے سرمایہ جمع کرلیتا ہے۔
