جمہوریہ تاجکستان بھی وسط ایشیا کا ایک خشکی میں گھرا ہوا (landlocked) ملک ہے۔ اس کی سرحدیں جنوب میں افغانستان، مغرب میں ازبکستان، شمال میں کرغزستان اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ تاجک نسل کے باشندوں کا وطن ہے، جن کی ثقافتی و تاریخی جڑیں ایران میں پیوست ہیں اور یہ فارسی سے انتہائی قربت رکھنے والی زبان تاجک بولتے ہیں۔ سامانی سلطنت کا گہوارہ رہنے والی یہ سرزمین 20 ویں صدی میں سوویت اتحاد کی باضابطہ جمہوریہ رہی جسے تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ (Socialist Republic Tajik Soviet) کہا جاتا تھا۔
تاجکستان کا مطلب ہے ’’تاجکوں کا وطن‘‘ جیسا کہ ایران اور اس سے ملحقہ بیشتر ممالک کے ناموں کے ساتھ ’’استان‘‘ لگتا ہے جیسے پاکستان، افغانستان وغیرہ۔ یہ سرزمین ، جہاں اب تاجکستان واقع ہے، 4 ہزار قبل مسیح سے مستقل آباد ہے۔ یہ علاقہ تاریخ میں مختلف سلطنتوں کے زیر نگیں رہا ہے۔ قبل از مسیح میں یہ علاقہ باختر کی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام یہاں بھی داخل ہوا۔ عباسی دور کے آخر میں جب سلطنت اسلامیہ کے مختلف حصوں میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں تو اولین ریاستوں میں سے ایک ریاست سامانی سلطنت یہاں وجود میں آئی تھی جس نے سمرقند اور بخارا کے شہر بنائے جو تاجکوں کے ثقافتی مراکز بنے۔ بعد ازاں منگولوں نے وسط ایشیا پر عارضی طور پر قبضہ کیا۔ سلطنت روس کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ امارت بخارا میں شامل تھا۔
انیسویں ویں صدی میں سلطنت روس نے وسط ایشیا پر اپنے پنجے گاڑنا شروع کیے اور تاجکستان پر بھی قبضہ کر لیا۔ سن 1917ء میں زار روس کی سلطنت کے خاتمے کے بعد وسط ایشیا میں بسماچی تحریک کا آغاز ہوا جنہوں نے آزادی کے لیے سرخ افواج کے خلاف زبردست مزاحمت کی لیکن اس تحریک کو کچل دیا گیا اور یہ علاقہ سوویت اتحاد کا حصہ بن گیا۔ اشتراکی دور میں یہاں مذہب بالخصوص اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا اور مساجد و عبادت گاہوں کو بند کر دیا گیا۔
بعدازاں تاجک خود مختار اشتراکی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ازبکستان کا حصہ تھی لیکن 1929ء میں تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ کو دستوری جمہوریہ کے طور پر الگ کیا گیا۔ ماسکو نے وسط ایشیا کی ریاستوں میں سب سے کم تاجکستان پر توجہ دی اور یہ طرز زندگی، تعلیم اور صنعت میں وسط ایشیا کی تمام ریاستوں میں سب سے پیچھے رہی۔ 1970ء کی دہائی میں مختلف نظریات کی حامل خفیہ اسلامی جماعتیں قائم ہوئیں اور 1980ء کی دہائی کے اواخر میں تاجک قوم پرستوں نے اضافی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ 1990ء تک علاقے میں بڑے پیمانے پر گڑ بڑ پیدا نہیں ہوئی۔ اگلے ہی سال سوویت اتحاد ٹوٹ گیا اور تاجکستان نے آزادی کا اعلان کر دیا۔
آزادی کے فوراً بعد ملک بد ترین خانہ جنگی کا شکار ہوا جس میں مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے قبائل آمنے سامنے ہو گئے۔ اس عہد میں غیر مسلم آبادی، جو زیادہ تر روسیوں اور یہودیوں پر مشتمل تھی، ایذا رسانی کے خوف، بڑھتی ہوئی غربت اور مغرب میں بہتر اقتصادی مواقع ملنے کے باعث ملک سے فرار ہو گئی۔ 1992ء میں امام علی رحمانوف بر سر اقتدار آئے اور اب تک ملک کے حکمران ہیں۔ 1997ء میں رحمانوف اور حزب مخالف کی جماعتوں (تاجک متحدہ حزب اختلاف) کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ 1999ء میں پر امن انتخابات کا انعقاد ہوا، اور رحمانوف ایک مرتبہ پھر ملک کے صدر قرار پائے۔ حزب مخالف نے ان انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ افغانستان کے ساتھ سرحد کی حفاظت کے لیے روسی افواج موسم گرما 2005ء تک ملک میں موجود رہیں۔ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد سے امریکی و فرانسیسی افواج اس ملک میں موجود ہیں۔
تاجکستان چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اور رقبے کے لحاظ سے وسط ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ سلسلہ کوہ پامیر اس ملک کے بیشتر حصے پر پھیلا ہوا ہے اور ملک کا پچاس فیصد سے زائد کا علاقہ سطح سمندر سے 3 ہزار میٹر (تقریباً 10 ہزار فٹ) سے اونچا ہے۔ کم بلند زمین کا واحد علاقہ شمال میں وادی فرغانہ اور جنوبی کافرنگان اور وخش کی وادیاں ہیں جو آمو دریا کو تشکیل دیتی ہیں اور یہاں بارشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ دوشنبہ جنوبی ڈھلوانوں پر وادی کافرنگان کے اوپر واقع ہے۔ آمو دریا اور پنج دریا افغانستان کے ساتھ سرحد تشکیل دیتے ہیں۔ کوہ اسماعیل سامانی (7495 میٹر)، کوہ آزادی (7174 میٹر) اور کوہ ابن سینا (6974 میٹر) ملک کی تین بڑی چوٹیاں ہیں۔
انتظامی تقسیم
ملک مختلف خطوں یا صوبوں میں تقسیم ہے جنہیں ولایت کہا جاتا ہے۔1۔ سغد ولایتی (خوقند)، 2۔ دوشنبہ میں قومی حکومت کے زیر انتظام علاقہ، جن میں کوئی ولایتی سطح کی انتظامی تقسیم نہیں، 3۔ خطلون ولایتی، 4۔ ولایتی مختاری کوہستانی بدخشاں۔
بیرونی علاقے
تاجکستان کے تین بیرونی علاقے (exclave) بھی ہیں جو وادی فرغانہ میں واقع ہیں جہاں کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان آپس میں ملتے ہیں۔ ان بیرونی علاقوں میں سب سے بڑا وروخ ہے جس کی آبادی 23 سے 29 ہزار ہے جس میں سے 95 فیصد تاجک اور 5 فیصد کرغز ہیں۔ یہ علاقہ کرغز علاقے میں اسفارا سے 45 کلومیٹر جنوب میں دریائے کرفشیں کے کنارے واقع ہے۔ دونوں بیرونی علاقہ کرغزستان میں کائراغچ کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹی سی آبادی ہے جبکہ آخری سروان کا گاؤں ہے جو ایک زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ ہے (15 کلومیٹر طویل اور ایک کلومیٹر عریض) جو انگرین سے خوقند کے درمیانی راستے پر واقع ہے۔ تاجکستان میں کوئی اندرونی علاقہ (enclave) نہیں۔
آزادی کے فوراً بعد تاجکستان مختلف فریقین کے درمیان لڑائی کے باعث خانہ جنگی کا شکار بن گیا، جنہیں مبینہ طور پر ایران اور روس کی حمایت حاصل تھی۔ خانہ جنگی کے دوران تمام 4 لاکھ روسی باشندے، سوائے 25 ہزار کے، اس علاقے سے روس چلے گئے۔ 1997ء میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور 1999ء میں پر امن انتخابات کے ذریعے مرکزی حکومت قائم ہوئی۔ تاجکستان باضابطہ طور پر ایک جمہوریہ ہے جہاں صدر اور پارلیمان منتخب کرنے کے لیے انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ آخری انتخابات 2005ء میں ہوئے اور گزشتہ تمام انتخابات کی طرح ان انتخابات کو بھی بین الاقوامی مبصرین نے غیر منصفانہ قرار دیا۔
حزب اختلاف کی کئی اہم جماعتوں نے 6 نومبر 2006ء کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جن میں23 ہزار اراکین پر مشتمل ’اسلامی نشاۃ ثانیہ پارٹی‘ بھی شامل تھی۔ تاجکستان اس وقت تک وسط ایشیا کا واحد ملک ہے جہاں متحرک حزب اختلاف موجود ہے۔ پارلیمان میں حزب اختلاف کے اراکین کا بسا اوقات حکومتی اراکین سے تصادم ہوتا رہتا ہے تاہم اس سے بڑے پیمانے پر کوئی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا۔
تاجکستان اشتراکی عہد ہی سے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں ایک غریب ریاست تھی اور آزادی کے فوری بعد خانہ جنگی نے اس کی معیشت کو لب گور پہنچا دیا۔ 2000ء میں بحالی کے منصوبوں کی مدد کا سب سے اہم ذریعہ بین الاقوامی امداد ہی تھی۔ بین الاقوامی امداد نے خطے میں غذائی پیداوار کی مسلسل کمی اور قحط کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 21 اگست 2001ء کو ’ریڈکراس‘ نے اعلان کیا کہ قحط تاجکستان کو نشانہ بنا رہا ہے، تنظیم نے تاجکستان اور ازبکستان کے لیے بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کیا۔
خانہ جنگی کے بعد تاجکستان معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے 2004ء کے درمیان تاجکستان کے جی ڈی پی میں 9.6 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجکستان کی آبادی جولائی2015ء کے اندازوں کے مطابق چھیاسی لاکھ دس ہزار ہے۔ سب سے بڑا نسلی گروہ تاجک ہے، جبکہ ازبک باشندوں کی بڑی تعداد بھی تاجکستان میں رہائش پذیر ہے۔ روسیوں کی تھوڑی سی آبادی بھی یہاں رہتی ہے جو ہجرت کے باعث کم ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کی باضابطہ زبان تاجک فارسی ہے جبکہ کاروباری و حکومتی معاملات میں روسی زبان بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ غربت کے باوجود تاجکستان میں خواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے اور تقریباً 98 فیصد آبادی لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک کی اکثر آبادی اسلام کی پیروی کرتی ہے جن میں سنی بہت بڑی اکثریت میں ہیں۔
گزشتہ ایک عشرے کے دوران تاجکستان نے معاشی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری طبقے نے خوب منافع کمایاہے۔ ریٹیل سیکٹر میں پرائیویٹ شعبہ کا حصہ نمایاں ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ تاجکستان میں ریٹیل کی دنیا میں غیرمعمولی ترقی ہورہی ہے، ایسا ہرگزنہیں ہے، البتہ ایک مخصوص رفتار کے ساتھ ریٹیل شاپس اور ریٹیل مارکیٹس میں اضافہ ہورہاہے۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت تاجکستان میں مجموعی طورپر ریٹیل شاپس کی تعداد 13000سے کچھ زائد ہوگی۔ جبکہ ریٹیل مارکیٹس 400کے لگ بھگ۔ ملک میں مجموعی طورپر 70ہزار افراد ریٹیل مارکیٹوں میں کام کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ملک کے مجموعی ملازمت پیشہ افراد میں سے 8.9فیصد ریٹیل سیکٹر سے وابستہ ہیں۔ فرانس اور پولینڈ کا گروپ وچان(Auchan) تاجکستان میں اپنی پہلی ہائپرمارکیٹ کھول چکاہے۔ یہ پانچ ہزار مربع میٹر رقبے پر قائم ہوئی ہے۔کمپنی کے کرتا دھرتا کہتے ہیں کہ وہ نہ صرف عام دکانوں کی نسبت سستی اشیا فراہم کرتے ہیں بلکہ وہ معیاری بھی ہوتی ہیں۔ اس پراجیکٹ کا سب سے بڑا فنانسر یورپین بنک آف ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ ہے، جس کے صدر سوما چکرابرتی کہتے ہیں:’’ ہم اس منصوبے کے ذریعے یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کررہے ہیں۔ہم تاجکستان میں سب سے پہلی ڈسکاؤنٹ ہائپر مارکیٹ لے کر آئے ہیں، اس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہاں کی ری ٹیل انڈسٹری میں ایک معیارقائم ہوگا۔ کمپنی تاجک فوڈز کے نام سے بھی کاروبار کا آغاز کررہی ہے جس میں مقامی سرمایہ کار بھی شامل ہوں گے۔ ان پراجیکٹس سے مقامی نوجوانوں کو بڑی تعداد میں روزگارملے گا۔
