کرغیز ریٹیلرز کس قسم کی تجارت کرتے ہیں، جان لیجیے

جمہوریہ کرغیزستان (یا قرقیزستان) وسط ایشیا میں واقع ایک ترک نژاد مسلمان ریاست ہے۔ اس کے شمال میں قازقستان، مغرب میں ازبکستان، جنوب میں تاجکستان اور مشرق میں عوامی جمہوریہ چین واقع ہیں۔ اس کا دارالحکومت اس کا سب سے بڑا شہر بشکیک ہے۔
g2 ’’کرغیز‘‘ یا ’’قرقیز‘‘ کے معنی ’’چالیس قبیلے‘‘ ہیں جو ترک روایت کے مطابق زمانہ قدیم میں متحد ہو کر ایک قوم بن گئے تھے۔ کرغیزستانی جھنڈے پر اس اتحاد کی نشان دہ چالیس کرنیں ہیں۔ بعض تاریخ دانوں اور زبان شناسوں کے مطابق قرقیز کے اصل لفظی معنی ’لال‘ ہیں جو اس علاقہ میں مقیم ترک قبیلوں کا قومی رنگ ہوا کرتا تھا۔
آٹھویں صدی میں جب عرب افواج نے وسط ایشیا فتح کیا تو یہاں مقیم آبادی مسلمان ہونے لگی۔ بارھویں صدی میں چنگیز خان نے اس علاقے کا قبضہ کر لیا اور یوں چھ صدیوں تک یہ چین کا حصہ رہا۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں دو معاہدوں کے تحت یہ علاقہ روسی سلطنت کا صوبہ کرغزیہ بن گیا۔ اس دور میں کئی سرکش کرغیز چین یا افغانستان منتقل ہو گئے۔ سن 1919ء سے یہاں سوویت دور شروع ہوا جو31 اگست 1991ء میں جمہوریہ کرغیزستان کی آزادی کے ساتھ اپنے اختتام پر پہنچا۔
کرغیزستان کا رقبہ 198500 کلومیٹر مربع ہے جس میں سے 65 فیصد تیان شان اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں کا علاقہ ہے۔ اس علاقے کے شمال مشرق میں 1606 میٹر کی بلندی پر اسیک کول کی نمکین جھیل واقع ہے جو دنیا میں اس نوعیت کی دوسری سب سے بڑی جھیل ہے۔ کرغیزی زبان میں اس کے معنی’گرم جھیل‘ ہیں کیونکہ اتنے برفانی علاقے میں اور اس بلندی پر ہونے کے باوجود یہ سال بھر جمتی نہیں ہے۔ اس نمکین جھیل کے علاوہ کرغیزستان باقی کئی وسط ایشیائی ممالک کی طرح مکمل طور پر خشکی سے محصور ہے۔ اس کی سرحدیں کسی سمندر سے نہیں ملتیں۔
کرغیزستان میں سونے اور دیگر قیمتی معدنیات کی کئی کانیں موجود ہیں۔ پہاڑوں کے باعث ملک میں صرف آٹھ فیصد علاقہ کاشت کاری کے لائق ہے اور تقریبا سب زرعی زمین جنوب میں واقع وادی فرغانہ تک محدود ہے۔ اس وادی میں سے کرغیزستان کے دو بڑے دریا، قارو دریو (کالا دریا) اور نارین گزرتے ہیں۔ ان کے سنگم سے دریائے سیحوں نکلتا ہے جسے جنت کا دریا کہاجاتاہے۔
کرغیزستان کی آبادی گزشتہ دہائیوں میں پچاس لاکھ تک پہنچ چکی ہے تاہم بیشتر کرغیزستانی اب بھی کسان یا خانہ بدوش ہیں۔ 69 فیصد کرغیزستانی ترک نژاد کرغیز (قرقیز) قوم سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ 25فیصد نسلاً ازبک اور روسی ہیں۔ ان کے علاوہ تاتار، اوغر، قزاق، تاجک اور یوکرینی قومیں بھی یہاں آباد ہیں۔ اگرچہ یہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، سرکاری زبانیں صرف کرغیز اور روسی ہیں۔
اسّی فیصد کرغیزستانی مسلمان ہیں۔ ان میں سے اکثریت حنفی فقہ سے منسلک ہے جو یہاں سترہویں صدی میں رائج ہوا۔ شہروں سے باہر اسلامی روایات مقامی ترک قبائلی روایات اور عقائد سے ملی ہوئی ہیں۔ بقیہ کرغیزستانی زیادہ تر روسی یا یوکرائنی تقلیدی کنائس کے عیسائی ہیں۔ سوویت دور میں یہاں سرکاری لامذہبیت (دہریت) عائد تھی اور کرغیزستان کا آئین اب بھی حکومت میں دین کی مداخلت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تاہم آزادی کے بعد اسلام معاشرتی اور سیاسی سطحوں پر بتدریج اہمیت حاصل کر رہا ہے۔ اس کے باوجود کچھ سیاسی اور معاشرتی گروہ اب بھی سوویت دور کی دہریت کے حامی ہیں۔
کرغیزستان سات صوبوں میں تقسیم ہے جو ’اوبلاست‘ کہلاتے ہیں ۔ دارالحکومت بشکیک اور وادی فرغانہ میں واقع شہر اوش انتظامی طور پر خود مختار علاقے ہیں جو ’شار‘ کہلاتے ہیں۔ صوبوں کے نام ہیں: باتکین، چوئی، جلال آباد، نارین، اوش، تالاس اور ایسیک کول۔
ویسے تو یہ ملک مکمل طورپر روس اور قازقستان پر انحصار کرتا ہے ۔ تاہم یہاں کی معیشت ا ن لوگوں کے سبب بھی چمکتی ہے جو زراعت سے وابستہ ہیں یا پھر سونے کی کانوں میں کام کرتے ہیں۔38فیصد سے زائد افراد زراعت سے شعبہ میں کام کرتے ہیں ۔گوشت، تمباکو، کاٹن اور اون اہم ترین زرعی مصنوعات ہیں۔ کرغیز لوگ روس اور قازقستان میں اگنے والی گندم، سبزیوں اور تیل پر گزارہ کرتے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ ملک ایسے لوگوں کا ملک ہے جن کی آمدنی بہت کم ہوتی ہے۔ جہاں تک ریٹیل انڈسٹری کا تعلق ہے، کرغیزتاجر چین اور ازبکستان سے مال لے کر قازقستان، روس اور دوسری وسط ایشیائی ریاستوں میں لے جاکر فروخت کرتے ہیں۔ یہ ایک اچھا ٹرانزٹ پوائنٹ ہے، اس کے ملکی معیشت پر غیرمعمولی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دارالحکومت بشکیک میں گزشتہ عشرے کے دوران ریٹیل مارکیٹ میں غیرمعمولی طورپر جدت آئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ سالانہ ترقی کی شرح 22سے25فیصد ہے۔ملک میں ریکارڈ مرتب کرنے کاکوئی خاص کلچر نہیں ہے، اس لئے ماہرین بھی اندازہ لگانے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت ریٹیل بزنس کا ٹرن اوور کتنا ہے۔بہرحال یہ ضرورہے کہ آدھے سے زیادہ ریٹیل بزنس دارالحکومت بشکیک ہی میں ہوتاہے۔ صرف اسی شہر میں جدید ریٹیل مارکیٹس قائم ہوئی ہیں۔ یہاں ریٹیل سٹورز، سپرمارکیٹوں اور مالوں میں اضافہ جبکہ بازاروں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ باقی ملک میں بیشتر افراد روایتی ریٹیل بازار سے خریداری کرتے ہیں، یہاں خریدار ایسی جگہوں سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں جہاں خدمات کا معیار بہتر ، ماحول خوشگوار اور گھر سے قریب ہو۔ نئے کھلنے والے ریٹیل سٹورز انہی باتوں کا خیال رکھتے ہوئے کاروبار میں کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ بہرحال ایک اندازے کے مطابق کھلے بازار سے خریداری کرنے والوں کی شرح 70فیصد سے زیادہ ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ مستقبل قریب میں بھی بازاروں ہی کو برتری حاصل رہے گی۔ ان بازاروں میں فوڈ اور نان فوڈ ، ہردو قسم کے مصنوعات فروخت ہوتی ہیں۔ پورے وسطی ایشیا میں ان کی ایک جیسی ہیت ہوتی ہے۔ بشکیک میں چاربڑے بازار ہیں، دوردوئی مارکیٹ ، اوش بازار، عورتوسائی مارکیٹ اور عالم دین مارکیٹ۔ دوردوئی میں 25000 لوگ کام کرتے ہیں۔ کپڑے اور جوتے زیادہ بکتے ہیں جو مقامی طورپر تیارکئے جاتے ہیں یا پھر چین سے آتے ہیں۔ یہاں کی ریٹیل انڈسٹری کاایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ریٹیلرز کی دلچسپی پرچون میں نہیں تھوک یعنی ہول سیل میں ہے چنانچہ یہاں 80فیصد مال قازقستان، روس، ازبکستان، تاجکستان اور دوسرے ممالک کی طرف بھیجا جاتاہے ۔ بازاروں میں ریٹیل بزنس سے کم منافع جبکہ ہول سیل بزنس میں منافع زیادہ ہوتاہے۔
بشکیک میں 90ء کی دہائی کے اواخر میں جدید گروسری سٹورز کھلنا شروع ہوئے۔ آج یہاں متعددگروسری سٹورز کی چینز کاروبار کررہی ہیں۔ لوگ بھی جگہ جگہ گھومنے کے بجائے ایک ہی جگہ سے سب کچھ خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان میں نارودنی(Narodny ) سرفہرست ہے جس کے شہر بھر میں 28سٹورز کھل چکے ہیں۔ دیگر سٹورز میں سٹالشنے، سیون ڈیز، رام سٹور اور بیٹا سٹور شامل ہیں۔یہ سب بارکوڈ پرچیز سسٹم کو اختیارکرچکے ہیں، کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز قبول کئے جاتے ہیں۔نارودنی نے اب اپنے قدم بشکیک سے باہر بھی رکھ لئے ہیں۔ اوش، جلال آباد، کانت اور توکماک میں بھی اس کے سٹور کھل چکے ہیں۔رام سٹور ترک کمپنی ہے، یہ روسی دارالحکومت ماسکو میں بہت مقبول ہے، اس نے بشکیک میں اپنا پہلا سٹور2006ء میں کھولا۔ 
شاپنگ سنٹرز کی بات کی جائے توZUMنامی شاپنگ سنٹر سوویت یونین کے دورمیں بھی کاروبار کررہاتھا۔ 90ء کی پوری دہائی میں اس شاپنگ سنٹر میں کچھ بھی نیا نہیں ہوا۔1999ء میں ترک سرمایہ کاروں نے نئے شاپنگ سنٹرز کا ایک برانڈ یہاں متعارف کرایا۔ یہ ’بیٹا سٹور‘ تھے جس میں ماڈرن گروسری سٹور بھی ہوتے ہیں اور ریسٹورنٹ بھی۔ دیگر شاپنگ سنٹرز میں دوردوئی پلازہ، کڈز ورلڈ(سلک وے)، ویفا سنٹر، کراوان، تشربات اور ریام شامل ہیں۔ شاپنگ سنٹرز کی ترقی کا عالم دیکھئے کہ محض دس برسوں میں ان کا رقبہ 10ہزار مربع میٹر سے بڑھ کر 80ہزار مربع میٹر تک پہنچ گیا۔ بڑے شاپنگ سنٹرز نے زیادہ تیزی سے ترقی کی، ان کی ترقی کا سفر اب بھی جاری ہے کیونکہ ان کے بڑی تعدادمیں شاپنگ سنٹرز زیرتعمیر بھی ہیں۔

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo