عبیداللہ عابد
میں آپ کو وسطی ایشیا کی ایک عجیب و غریب تصویر دکھانا چاہتا ہوں، یہ ایک مختلف زاویے سے کھینچی گئی ہے۔ میں وسطی ایشیا کے ایسے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتا تھا جو گراس روٹر ہوں، زیرو سے ہیرو بنے ہوں۔مجھے خاصی تلاش بسیار کے بعدبھی ایسا کچھ نہیں ملا۔ اسی جستجو کے دوران مجھے ایک فیچر دیکھنے کو ملا جو وسطی ایشیا کی0موثر ترین خواتین سے متعلق تھا۔ عنوان دیکھ کر مجھے گمان گزرا کہ شاید ان خواتین ہی میں سے کوئی ایسی کامیابی کی حوصلہ بڑھانے والی داستان ہو۔مزید دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے پہلی خاتون’روزا اوتنبایووا‘ ہیں، یہ کرغیزستان کی صدر رہی ہیں۔ ان کے والد سوویت یونین کے دور میں سپریم کورٹ میں جج کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
فہرست میں دوسری خاتون دینارا قلی بایوف ہیں جو قازقستان کے صدر نورسلطان بایوف کی صاحبزادی ہیں۔امریکی میگزین ’فوربز‘ نے انھیں دنیا کی ارب پتی شخصیات میں شامل کیا ہے۔اپنے ملک میں سب سے مالدار افراد میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ذریعہ آمدن کیا ہی؟ کہاجاتا ہے کہ ایک بنک میں ان کے حصص ہیں تاہم ملک میں کم ہی لوگوں کو یہ بات معلوم ہے۔ ان کے شوہر تیمور قلی بایوف ہیں جوچند ایسے اہم شعبہ جات کے نگران ہیں جن کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہوتا ہے مثلاً توانائی، سونا اور یورینیم۔قازقستان میں حکومتاور دولت کی یہ عجب تکون ہے جس میں ایک طرف صدر محترم براجمان ہیں، دوسرے کونے پر بیٹی اور تیسرے کونے پر داماد۔
تیسری خاتون سویتلانا اورتیکوف ہیں، تاجکستان میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کی سربراہ ہیں جو مقننہ اور عدلیہ کے امور سے متعلق ہے۔چوتھی خاتون ایکا نوربیردییوف ہیں جو ترکمانستانی پارلیمان کی سپیکر ہیں۔پانچویں خاتون لیلی کریموف ہیں، ازبکستان کے صدراسلام کریموف کی بیٹی ہیں اور ملک میں ایک بزنس ایمپائر کی مالکہ ۔ان کی ملکیتی ری ٹیل مارکیٹ کی روزانہ آمدن دولاکھ پچاس ہزار ڈالرز کے برابر ہے۔اس کی بڑی بہن اپنے والد کے ہاں معتوب ہے کیونکہ اس نے ایک فرانسیسی میگزین کو انٹرویو میں اپنے والد کو ’ڈکٹیٹر‘ قراردیاتھا۔
چھٹی خاتون گوگا عشقنازی ہیں، لندن میں رہتی ہیں تاہم پس منظر قازقستان سے جڑا ہوا ہی، تیل اور گیس کی ایک کمپنی کی مالکہ ہیں، اس نے قازقستان کی حکومت چند موثر افراد کی مدد سے ٹھیکے لینے کا اعتراف کیا۔کہاجاتا ہے کہ قازقستان کے صدرنورسلطان بایوف کے داماد تیمور قلی بایوف کے ساتھ ناجائز تعلقات رہے ہیں اوران سے ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی۔اس کا برطانوی شہزادہ اینڈریو کے ساتھ بھی دوستانہ رہا ہے۔ کس قدر دولت کی مالکہ ہی، گوگا نے کبھی ظاہر ہی نہیں ہوے دیا۔
ساتویں خاتون گلنار کریموف ہیں۔ازبکستان کے صدراسلام کریموف کی بیٹی ہیں اور ملک میں ایک بزنس ایمپائر کی مالکہ۔ توانائی، زراعت اور کنسٹرکشن کے شعبوں سے خوب مال بٹورنے کی ذمہ داری انھوں نے سنبھال رکھی ہے۔ایک سوئس کمپنی زیرومیکس کے ساتھ بھی پارٹنرشپ ہے۔سن010ء تک ان کی کمپنی ملک کی سب سے بڑی پرائیویٹ کمپنی تھی۔
آٹھویں خاتون تہمینہ رحمانوف ہیں۔ والد تاجکستان کے صدر ہیں۔ تہمینہ ملک میں رئیل اسٹیٹ، ریسٹورنٹس اور بڑء بڑے تجارتی مراکز پر مشتمل بزنس ایمپائر کی مالکہ ہیں۔یہ ہمسائیہ ملک ازبکستان کے صدر اسلام کریموف کی بیٹیوں سے برعکس ہیں۔ہمیشہ دنیا کی نظروں سے مخفی رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی کوئی ویب سائٹ ہے نہ ہی انٹرویوز دیتی ہیں، نہ ہی تقریبات میں شرکت کرتی ہیں نہ ہی امدادی کاموں میں حصہ لینا پسند کرتی ہیں۔نویں خاتون معتبر تاجی بایوف ہیں،تعلق ازبکستان سے ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہیں۔
دسویں خاتون آسودہ رحمانوف ہیں،تاجکستانی صدر کے نو بچوں میں سے ایک یہ بھی ہیں۔ان کی شادی ملک کے نائب وزیرخزانہ جمال الدین نور علی یوف سے ہوئی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس کمپنی کے مالک ہیں جو پورے ملک میں سڑکوں کے ٹھیکے لیتی ہے۔
اب آپ خود ہی شمار کرلیں کہ وسطی ایشیا کی سب سے طاقت ور خواتین میں کتنی صدور مملکت کی بیٹیاں ہیں۔ یہ وہ سربراہان مملکت ہیں جو سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دسمبر 1991ء کی ایک سرد رات، وسطی ایشیا کے مرکز میں واقع عشق آباد، جو ترکمانستان کا دارالحکومت ہی، میں اکٹھے ہورہے تھے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ان سابقہ رہنمائوں، جو آزاد شدہ وسط ایشیائی ریاستوں کے حکمران بننے والے تھی،کا جہاز اترا تو گارڈ آف آنر اور ملٹری بینڈ نے ان کا استقبال کیا جبکہ ان کی تفریح کے لئے نوجوان لڑکیاں بھی موجود تھیں، جو برف سے ٹھٹھررہی تھیں اور پھولوں کے گلدستے تھامے ہوئے تھیں، سردی سے کانپتے ہوئے رقص کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
یہ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تھا۔ اس سے چار دن پہلے روس کے صدر بورس یلسن اور یوکرائن اور بیلارس کے رہنما سوویت یونین کی تحلیل کے معاہدے پر دستخط کرچکے تھے۔ اس عقربی ملک کی تحلیل سے اچانک پانچ آزاد اور خودمختار ریاستیں دنیا کے نقشے پر ابھر رہی تھیں لیکن ابھی تک کسی نے وسطی ایشیا کے ان رہنمائوں سے مشورہ نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ رہنما اشک آباد آرہے تھے۔ ان کے چہرے پر پریشانی اور غم و غصے کے ملے جلے تاثرات ہویدا تھے کیونکہ انھیں احساس ہو رہا تھا کہ انھیں سوویت یونین نے چھوڑ دیا ہی، چنانچہ وہ اس سے جدا ہونے کے نتائج سے خوفزدہ تھے۔ تمام رات وہ رہنما بیٹھ کر اپنے مستقبل کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ اگلی صبح ان رہنمائوں نے ایک متفق اعلامیے میں کہا کہ وہ نئی قائم ہونے والی ’’آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ‘‘ میں شریک ہو رہے ہیں۔
آنے والے برسوں میں ان سربراہان نے اقتدار اور دولت جمع کرنے کے لئے ایسی دوڑ لگائی کہ ان ممالک کے عوام اپنے حکمرانوں کی حرکتوں پر حیران رہ گئے۔ ان حرکتوں کا نتیجہ آپ نے مندرجہ بالا سطور میں دیکھ ہی لیا ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ان حکمرانوں نے اپنے عوام کو غلام بنالیا اور اپنے ممالک کو اپنی جائیداد قراردیدیا۔ ان ممالک میں ری ٹیل بزنس کی دنیائوں کا جائزہ لیا جائے توسب کچھ انہی سربراہان ممالک کی اولادوں کے پاس نظر آتا ہے۔ کوئی دوسرا فرد کاروبار کی اس دنیا میں آنے کا سوچ ہی نہیں سکتا۔ عام ریٹیلر ان حکمرانوں کو رشوت دے کر شٹل تجارت پر ہی قناعت کرلیتا ہے یعنی ایک ہمسائیہ ملک سے سامان خرید کر دوسرے ہمسائیہ ملک میں فروخت کردی، یہ سامان اپنے ملک میں لاکر فروخت کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا نہ ہی اپنے ملک کی اشیا ایکسپورٹ کرنے کا سوچ سکتا ہے
