وسطی ایشیا کے اس ملک کا سرکاری نام ’جمہوریہ قازقستان‘ ہے اور یہ بلحاظ رقبہ دنیا کا نواں سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کا رقبہ 2,727,300 مربع کلومیٹر ہے جو مغربی یورپ کے کل رقبے سے بھی زیادہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا خشکی میں محصور ملک بھی ہے۔ اس کے شمال میں روس، مشرق میں چین، جنوب مشرق میں کرغیزستان، جنوب میں ازبکستان اور ترکمانستان اور جنوب مغرب میں بحیرہ قزوین واقع ہیں۔ 1997ء تک دارالحکومت الماتے تھا جسے بعد میں ’استانہ‘ منتقل کردیا گیا۔ الماتے ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔
قازقستان کی وسیع و عریض سرزمین بڑی متنوع ہے، اس میں گھاس کے میدان، قطبی جنگلات، برف پوش پہاڑ، دریائی میدان، اور صحرا سب کچھ شامل ہیں۔ 1,64,00,000 آبادی کے ساتھ قازقستان بلحاظ آبادی دنیا میں 62 ویں نمبر پر آتا ہے اور اس کی کثافتِ آبادی صرف 6 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔
_2 تاریخی طور پر یہ خانہ بدوشوں کا ملک رہا ہے۔ سولہویں صدی تک یہاں کے لوگ تین واضح قبیلوں کی صورت میں منظم ہو چکے تھے۔ ان قبیلوں کو مقامی زبان میں ’جْز‘ کہتے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں روسیوں نے قازقستان پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں انیسویں صدی کے وسط تک پورا قازقستان سلطنت روس کا حصہ بن چکا تھا۔
قازقستان نے 16 دسمبر 1991ء کو سویت اتحاد سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ یہ سوویت اتحاد سے الگ ہونے والی اس کی آخری ریاست تھی۔ سوویت دور کے رہنما نورسلطان نذربایوف ملک کے نئے صدر بنے۔ آزادی کے بعد سے قازقستان ایک متوازن خارجہ پالیسی پر گامزن ہے اور اپنی معیشت، خصوصاً معدنی تیل اور اس سے متعلقہ صنعتوں، کی ترقی پر توجہ دے رہا ہے۔
قزاقستان اہم سوویت ریاست رہا ہے۔ یہ روس کے لیے دفاعی اعتبار سے اہم ہے کہ اس تک جانے والے سبھی راستے اِدھر سے ہو کر گزرتے ہیں۔ دونوں کی 6846کلومیٹر سرحد سانجھی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی زمینی سرحد ہے۔قزاقستان کی تقریباً ایک تہائی آبادی روسی النسل ہے۔اسی طرح لاکھوں قزاق روس میں آباد ہیں۔ پچانوے فی صد قزاق روسی زبان بولتے ہیں۔ روس کرغیزستان اور تاجکستان میں اپنے ہوائی اڈے رکھتا ہے اور قزاقستان میں تو اس کے لیے کوئی پابندی نہیں۔
آزادی کے وقت قزاقستان معاشی حوالے سے روس پر انحصار کرتا تھا لیکن اب دونوں ممالک برابری کی بنیاد پر تجارت کرتے ہیں اور دونوں کے تجارتی اہداف میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ قزاقستان کے تیل اور گیس کے ذخائر دنیا بھر کی طرح روس کے لیے بھی پرکشش ہیں اور وہ ان کی برآمدات میں قزاقستان کو اپنے راستے مہیا کرتا ہے۔ قزاقستان اپنے معدنی وسائل کا غالب حصہ روس کے ذریعے بیرونی دنیا کو بھیجتا ہے اور اسی میں سہولت سمجھتا ہے۔
چین قزاقستان کا اہم ترین پڑوسی ملک ہے اور دونوں کی 1460کلومیٹر سرحد ملتی ہے۔ چین آزادی کے بعد قزاقستان کی طرف ملتفت ہوا کیونکہ وہ اپنے سرحدی علاقوں کو مضبوط دیکھنے کا متمنی ہے۔ چین کے خارجہ تعلقات میں قزاقستان چند اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں اپنے ہاں چین کا خیر مقدم کرتی ہیں۔چین کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وسط ایشیائی ریاستوں میں روس کی واضح برتری قائم نہ رہے۔
چین کی معاشی ترقی قزاقستان کے لیے باعثِ کشش ہے۔قزاقستان کے چھوٹے بڑے بازاروں میں جہاں دیکھیے چینی اشیا کے انبار لگے ہوئے ہیں۔چین دنیا کو عسکری نہیں معاشی شکست دینے پر تْلا ہوا ہے اور اس میں وہ پوری طرح کام یاب دکھائی دیتا ہے۔ قزاقستان کے توانائی کے ذخائر پر چینی کمپنیاں بھی مصروفِ کار ہیں اور وہاں اپنا وسیع سرمایہ لگا رہا ہے۔چین کی یہ بھی کو شش ہے کہ وہ قزاقستان کو تیل برآمد کرنے کے لیے راستا مہیا کرے علاوہ ازیں وہ قزاقستان کے ساتھ اپنے ریلوے کے نظام کو زیادہ فعال اور متحرک بنانے کا خواہش مند ہے۔قزاقستان چین کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتا ہے لیکن محض خام مال فراہم کرنے والا ملک نہیں رہنا چاہتا۔قزاقستان کے دو دریا چین سے بہہ کر آتے ہیں ان کے آبی ذخائر اور کچھ زمینی تنازعات ایسے بھی جو دونوں ممالک میں ناخوش گوار صورتِ حال پیدا کر سکتے ہیں۔
آزادی کے بعد امریکا نے وسط ایشیائی ریاستوں کو بہت اہمیت دی اور اسے یہ بھی احساس ہے کہ قزاقستان یہاں کا اہم ترین ملک ہے۔امریکا چاہتا ہے کہ وسط ایشیائی ریاستیں روس اور چین پر کم سے کم انحصار کریں۔ تیل اور گیس کے ذخائر کے سلسلے میں امریکی کمپنیاں بھی قزاقستان کی ممد و معاون ہیں اور امریکا کو ان کا تحفظ عزیز ہے۔ امریکا کی خواہش ہے کہ وہ باکو کے ذریعے بیرونی دنیا کو تیل فراہم کرے۔روس اور چین کے مقابلے میں وہ آذربائی جان سے منسلک ہونے کا متمنی ہے۔قزاقستان اس کی ا س پیشکش کو کسی حد تک قبول بھی کر چکا ہے۔ امریکا اور قزاقستان جمہوریت،منشیات اور دہشت گردی کے مسائل پر سو فی صد متفق ہیں۔ پہلے پہلے امریکی جمہوری ادارے ،نذر بائیوف کی حکومت پر تنقید کرتے تھے لیکن اب اس کی جدت پسند طبع کے قائل نظر آتے ہیں۔قزاقستان چاہتا ہے کہ امریکا ا س کے ساتھ طویل المعیاد سفارتی اور دوستانہ تعلقات استوار کرے۔ اسے طالبان کی دھمکیوں سے بچائے اور منشیات اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کا ہم قدم رہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا کی نظر قزاقستان کے وسائل پر ہے۔
اگرچہ سن2015ء میں قزاقستان میں جدید ریٹیلنگ کو اختیار کرنے والے ریٹیلرز کی سیل روایتی اندازمیں کاروبار کرنے والوں کی نسبت آدھے سے بھی کم ہوئی، تاہم یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ قزاقستان میں جدید ریٹیلنگ ایک مخصوص رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک جدید ریٹیل سٹور میں روایتی کاروباری مرکز کی نسبت کہیں زیادہ مصنوعات موجود ہوتی ہیں، یہاں خدمات کا معیار بھی کہیں زیادہ بلند تر ہوتاہے۔ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت بھی ان خدمات میں شامل ہے۔ ایک مخصوص رفتار ہی سے شہروں اور دیہاتوں میں جدید ریٹیل سٹورز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس رفتار میں اضافہ ہوسکتاہے اگر جدید ریٹیل سٹورز میں مصنوعات کی قیمتیں روایتی کاروباری مراکز کی نسبت زیادہ نہ ہوں۔ یہاں کے عام لوگ روایتی سٹورز کی طرف اس لئے بھی لپکتے ہیں کہ وہ ان کی رسائی میں ہوتے ہیں، ان کی رہائش سے زیادہ قریب ہوتے ہیں، جدید ری ٹیل سٹورز مخصوص مقامات پر ہوتے ہیں، اب بھلا کوئی فرد اپنے قریب ترین روایتی سٹور کو چھوڑ کر جدید سٹور تک کیوں فاصلہ طے کرے، جبکہ وہاں اسے اشیائے صرف مہنگے داموں بھی ملیں۔ بعض خریدار بڑی تعداد میں اشیائے صرف خریدنے کے لئے سپرمارکیٹس اور ہائپر مارکیٹس کا رخ کرتے ہیں، وہاں رعایت کی مختلف پیشکشوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔میگنم کیش اینڈ کیری اس وقت سب سے بڑا ماڈرن ری ٹیلر ہے، وہ گزشتہ برس پورے ملک میں11 شاخیں قائم کرچکاہے۔مجموعی طورپر پورے ملک میں اس کے سٹورز کا رقبہ 43,900مربع میٹر ہے۔میگنیم کیش اینڈ کیری ریٹیلنگ میں قومی چمپئین ہونے کا اعزاز بھی جیت چکاہے۔ اس کے علاوہ کازمارٹ ڈیلی، میگا آستانہ اور رام سٹور ہائپر کے نام سے ہائپر مارکیٹس کاروبار کررہی ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ سن 2015ء میں تھوڑے لیکن مضبوط کھلاڑیوں کی مدد سے یہاں کی جدید ریٹیل انڈسٹری ترقی پذیر رہی ہے۔ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ملک کی کم آبادی یا کم خریدار ہیں۔
یہاں کی ری ٹیل مارکیٹ گزشتہ کئی برس سے مستحکم ہے۔ سن2008اور2009ء کے بحران کے بعد اس نے تیزی سے پیش رفت کی جس کی وجہ سے اب سرمایہ کاروں نے یہاں انویسٹمنٹ میں خاصی سرگرمی دکھائی۔ دارالحکومت الماتے میں جدید ریٹیل بزنس نے ملک کے دیگرحصوں کی نسبت زیادہ پاؤں پھیلائے۔ یہاں زیرتعمیر شاپنگ سنٹرز کی تعداد بھی خاصی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں روایتی ریٹیلنگ ہی ہورہی ہے۔ دارالحکومت الماتے میں اس وقت سات لاکھ مربع میٹر رقبے پر شاپنگ سنٹرز قائم ہیں، ان میں سب سے زیادہ جگہ میگا اور اپورٹ مال کی ہے جبکہ دیگرنمایاں شاپنگ مالزمیں اے ڈی کے، سپوتنک، میکسیما، رٹز پلیس، پرائم پلازہ، ڈیملین، رام سٹور مال، مینگو، اٹریوم، سلک وے سٹی، گلیبس، سٹی سنٹر،پرومنڈے، سلک وے پیسیج، رام سٹور گیلری اور میری شامل ہیں۔ مجموعی طورپر 20شاپنگ سنٹرز کاروبار کررہے ہیں جبکہ 10شاپنگ سنٹر زیرتعمیر ہیں۔ اب بین الاقوامی برانڈز بھی اس ملک میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ جی اے پی، سپورٹس ماسٹر، ای سی سی او، اوسز اور پیکاکس ایسے برانڈز دارالحکومت الماتے میں کام کررہے ہیں۔ مجموعی طورپر100سے زائد غیرملکی برانڈز یہاں کاروبار کررہے ہیں۔بہرحال اب بھی قازقستان میں ایسے غیرملکی برانڈز کے لئے میدان خالی ہے جوعام قازق کو سستی اور معیاری اشیا فراہم کرسکے۔ ری ٹیلرز کے قازقستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں زارا، برشکا، مون سون، ایسیسریز اور نیویارکر جیسے مشہور زمانہ برانڈز کی دیکھا دیکھی دیگر غیرملکی کمپنیاں بھی ادھر کا رخ کریں گی۔تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہاں عالمی معیار کے شاپنگ سنٹرز کس حد تک تعمیر کئے جاتے ہیں۔ریٹیل انڈسٹری میں ترقی کے لئے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی بہتری کی ضرورت ہے، حکومت اس طرف توجہ دے رہی ہے اور بجٹ کا اچھا خاصا حصہ اس پر خرچ کر رہی ہے۔
GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX
Don't worry we don't spam

