بھارت ایک عشرہ پہلے تک، ریٹیل انڈسٹری کے میدان میں امیدوں سے بھرپور فضا قائم تھی۔دنیا کی بڑی بڑی ریٹیل کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے بحث مباحثوں میں مصروف تھیں۔یہاں کے بڑے مقامی ریٹیلرز بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنرشپ کے لئے میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وال مارٹ نے اگست2007ء میں ’بھارتی انٹرپرائزز‘ کے ساتھ مل کر کاروبار کرنے کا معاہدہ کیا جس کے مطابق سن 2010ء میں ہول سیل سٹور اور سپلائی چین شروع کرنا تھی ، اسی طرح دنیا کی دوسری بڑی ریٹیل کمپنی ’کیری فور‘ بھی بھارت میں بزنس شروع کردیا تھا۔یہ سب کچھ تین برس پہلے تک تھا۔تاہم سن2013 ء کے اواخر تک وال مارٹ نے بھارتی انٹرپرائز سے راستے جدا کرلئے جبکہ ’کیری فور‘ نے بھی بھارت میں اپنی مارکیٹ بند کرنے کا اعلان کردیا۔
گلوبلائزیشن یا عالمگیریت کے سامنے رکاوٹ کھڑی کرنا ممکن نہیں ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کی اکثرکمپنیاں بوئنگ، کوکاکولا، ڈوپوائنٹ، جنرل الیکٹرک، ہیولیٹ پیکرڈ، آئی بی ایم، اوراکیل، یونی لیور اور ڈزنی کی طرح پوری دنیا میں کامیابیاں حاصل کرنا چاہتی ہیں۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ بیرون ملک کاروبار کرکے منافع حاصل کرنا خاصا مشکل کام ہے۔اگر بہ نظر عمیق جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عالمگیریت کے فوائد گروسری ریٹیلرز کو زیادہ نہیں ملتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں باقی انڈسٹریز کی نسبت گروسری ریٹیل انڈسٹری میں اب بھی مقامی لوگوں ہی کو غلبہ حاصل ہے۔سب سے بڑی ری ٹیل مارکیٹیوں میں انٹرنیشنل ریٹیلرز موجود نہیں ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ جس گروسری ریٹیلر نے بھی کسی دوسرے ملک کی کاروباری دنیا میں قدم رکھنے کی کوشش کی، اسے ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا۔کہاجاتا ہے کہ گروسری ریٹیلرز کی بیرون ملک ناکامیوں کا سبب کنزیومرز کے ذائقہ سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔ایسا فوڈ پراڈکٹس میں خصوصیت کے ساتھ ہورہا ہے۔ تاہم مارسم نیسلے، پی اینڈ جی ، ڈینون اور یونی لیور ایسے نام ہیں جن کے برانڈز گزشتہ کئی برسوں سے کامیابی سے بزنس کررہے ہیں۔ اس لئے میراخیال ہے کہ ناکامیوں کے اسباب کچھ اور ہی ہیں۔
بھارت جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں چند ایک چینز ایسی ہوتی ہیں جن کے سٹورز کا نیٹ ورک بڑا ہوتا ہے۔ ریٹیلنگ عمومی طور پر مقامی قسم کا مزاج رکھتی ہے، انڈسٹری کافی بکھری ہوئی ہے۔ کنزیومر سوچتا ہے کہ غیرملکی ریٹلیلرز مقامی ریٹیلرز کی طرز پر سہولت فراہم نہیں کرتے۔ مقامی ریٹیلرز فری ہوم ڈیلیوری بھی فراہم کرتے ہیں اور کریڈٹ پر بھی سامان دیدیتے ہیں۔ مزید براں دنیاکے دوسرے حصوں بشمول بھارتی اوپن مارکیٹ، قوانین مقامی ریٹیلرز کو غیرملکیوں کی مسابقت سے محفوظ رکھتے ہیں۔
بھارت میں کاروبار کرنے کے چیلنجز کیا ہیں؟ ورلڈ بنک نے 2014ء میں ایک جائزہ رپورٹ مرتب کی، اس کے مطابق دنیا میں جن ممالک میں کاروبار کرنا آسان ہے، ان 189ممالک میں بھارت کا 134نمبر ہے۔بھارت اس مقابلے میں پاکستان اور یمن سے بھی پیچھے ہے۔اس کے باوجود دنیا کے کچھ سرمایہ کاروں نے خوفزدہ ہونے کے بجائے امید کا دامن تھامنے کو ترجیح دی۔ وہ اپنے اس خیال پر قائم و دائم رہے کہ انھیں اپنے خواب پورے کرنے کے لئے بھارت میں سرمایہ کاری کرنی ہی ہوگی۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ یہاں سرمایہ کاری کرنے میں خطرات زیادہ اور فائدے غیریقینی ہیں۔
GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX
Don't worry we don't spam

