انس عبید
ہر انسان کا اپنا ایک کلچر ہوتا ہے، اس کی اپنی ایک تہذیب اور اپنا ہی ایک تمدن ہوتا ہے۔ وہ اسی کی بنیادوں پر زندگی بسر کرتا ہے۔ اس پر اس کے اعتقادات کا بھی اثر ہوتا ہے، اسے اپنے بڑوں سے ملنے والی دانش کا بھی اور اس کی قوم کے مجموعی کلچر کا بھی۔ اسی طرح اس فرد کے اپنے مشاہدات اور تجربات کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔وہ جغرافیہ بھی ایک بنیاد بنتا ہے جہاں وہ فرد زندگی بسر کرتا ہے۔
یہ اسی کا کلچر ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں کامیابیوں اور ناکامیوں کو جوڑتا ہے۔آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ فلاں قوم بہت محنتی ہے، فلاں قوم نہایت توہم پرست ہے اور فلاں قوم بہت عیاش ہے۔ دراصل ایسی تمام اقوام اپنے ا عتقادات، نظریات، مشاہدات اور تجربات ہی کی بنیاد پر زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان کا رویہ اور طرزعمل ان کے اپنے کلچر ہی کا عکاس ہوتا ہے۔ اب
تھائی لینڈ میں چورانوے(94) فیصد بدھ مت کے پیروکار ہیں۔آپ کے ذہن میں بدھ مت کے پیروکاروں کا خیال آتا ہے تو ساتھ ہی ذہن میں نہایت عاجز اور نرم خو لوگوں کی تصویر بن جاتی ہے۔ تھائی لینڈ کی سیر کرنے والوں سے پوچھ لیجئے، وہ تھائی لوگوں کی یہی خصوصیات بتائیں گے۔ دراصل یہ تھائی لوگ بھی اسی کلچر کے تحت جیتے ہیں جو ان کے اعتقادات اور نظریات کی بنیادوں پر قائم ہوا ہے۔ ان کے طرزعمل پر ان مذہبی رہنما گوتم بدھ کی تعلیمات کے اثرات بخوبی محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ اب ایک نظر بدھ اصولوں پر ڈالیں اور پھر تھائی لوگوں کی زندگی پر بھی ایک نظر ڈالیں۔
ان کے رہنما گوتم بدھ نے کہا تھا کہ
- ناکامی انسان کو سبق دیتی ہے کہ کامیاب کیسے ہونا ہے۔
- عزت اور وقار والی غربت بے شرمی کی دولت سے بہتر ہے۔
- اگر آپ کسی مسئلے سے دوچار ہوجائیں تو اس سے راہِ فرار اختیار نہ کرو کیونکہ اسے حل کرنے کا ایک راستہ ضرور ہوتا ہے۔
- ہر فرد بے وقوف بن سکتا ہے لیکن کوئی فرد بھی ہمیشہ کے لئے بے وقوف نہیں بن سکتا۔
- سمجھ بوجھ ہی انسان کو خوشحال بناتی ہے۔
- جس کے پاس صلاحیت ہوتی ہے، وہ دکھاوا نہیں کرتا، دکھاوا وہی کرتا ہے جس کے پاس علم نہیں ہوتا۔
- پریشانی زندگی کو مختصر کرتی ہے۔
- ہمیشہ لینے والے نہ بنو، دینے والے بھی بنو۔
- وقت اور پانی کا بہاؤ کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
- مایوسی بھری زندگی گزارنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اپنے آپ کو زندہ دفن کردیا ہو۔
- خود غرضی تمام برائیوں کی ماں ہے۔
- دیانت داری والا ہر کام عزت عطا کرتا ہے۔
- سیلابی پانی کیچڑ پیدا کرتا ہے لیکن صاف پانی کیچڑ کو صاف کرتا ہے۔
- خود غرضی سکون کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔
- آج کا ایک دن کل کے دو دنوں سے بہتر ہے۔
- ہوسکتا ہے کہ آپ کے اچھے یا برے کام کو دوسرے نہ دیکھ رہے ہوں لیکن آپ تو دیکھ رہے ہیں نا!
آپ تھائی لینڈ سیر و سیاحت کی غرض سے جائیں یا کاروباری مقاصد کی خاطر، آپ کو تھائی لوگوں کے طرزعمل میں گوتم بدھ کی مندرجہ بالا باتیں ضرور نظر آئیں گی، آپ ہر تھائی کی زندگی کو کھنگال کے دیکھ لیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ اس نے اپنی زندگی میں ناکامیوں سے سبق سیکھے اور پھر کامیاب زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہوگیا، آپ دیکھیں گے کہ تھائی لوگوں کی عظیم اکثریت غربت قبول کرلیتی ہے لیکن عزت اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ تھائی لوگ مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں، کبھی راہِ فرار اختیار نہیں کرتے، انھوں نے یہ بات اپنے پلے باندھ رکھی ہے کہ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ آپ کو تھائی لینڈ جا کر معلوم ہوگا کہ وہاں کے لوگوں نے سمجھ بوجھ حاصل کرکے خوشحال کی منازل طے کی ہیں، انھوں نے ہر موقع کو اپنے مفاد میں بہترین انداز میں استعمال کیا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ تھائی لوگ دکھاوے کے قائل نہیں ہیں، ان کی زندگی میں مصنوعیت نہیں ہے، وہ اپنے اندر سمجھ بوجھ اور صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ تھائی لوگ پریشانی کو قریب پھٹکنے نہیں دیتے، یہ ان کی کامیابی کے بہت سے رازوں میں سے ایک راز ہے۔آپ دیکھیں گے کہ تھائی لوگ ہاتھ پھیلانے والے نہیں ہوں گے، وہ بہترین خدمات اور مصنوعات فراہم کرتے ہیں اور بدلے میں آپ سے نہایت کم شرح منافع کے ساتھ معاوضہ لیتے ہیں۔ تھائی لوگوں نے بخوبی جان لیا تھا کہ وقت اور پانی کا بہاؤ کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا، چنانچہ انھوں نے وقت کے ہر لمحے سے فائدہ اٹھایا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو مایوس کن زندگی گزارتے، لیکن وہ ایسا کیوں کرتے بھلا! ان کے بابا نے انھیں بتایا تھا کہ مایوسی بھری زندگی گزارنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اپنے آپ کو زندہ دفن کردیا، پھر بھلا وہ کیوں زندہ دفن ہونا پسند کرتے۔
تھائی لوگ کو آپ خود غرض نہیں پائیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خودغرضی تمام برائیوں کی ماں ہے۔ آپ ان سے کاروباری معاملات کرلیں، آپ انھیں دیانت دار پائیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دیانت داری والا ہر کام عزت عطا کرتا ہے۔ ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ بھی ہے کہ وہ آج کے دن کو آنے والے کل سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ اسی بنیاد وہ مسلسل جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔
آخر میں ایک امریکی مزاحیہ اداکار بوبی لی کی بات پڑھ لیں، وہ تھائی لینڈ میں چند دن گزار کے واپس گیا توکہنے لگاکہ تھائی لینڈ میں شاپنگ بہت زیادہ سستی ہے، عمومی طور پر ان کی مصنوعات کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔ دارالحکومت بنکاک محفوظ شہر ہے تاہم اگر آپ وہاں کسی فرد کو چھرا پکڑے دیکھو تو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، وہ ناریل بیچنے والا بھی ہوسکتا ہے۔
