عبیداللہ عابد
فیروز الانہ کے بیٹے عرفان الانہ اس وقت الانہ گروپ کے چئیرمین ہیں تاہم یہ بڑی کاروباری ایمپائر کھڑی کرنے کا سہرا فیرزوالانہ ہی کے سرپر ہے۔ ان کے وژن ، ان کی واضح اندازمیں سوچنے اور اچھے فیصلے کرنے کی صلاحیت نے نہ صرف ان کے کاروبار کو چلایا بلکہ اس سے حکومتِ بھارت اور یہاں کی متعدد ریاستی حکومتوں نے بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ بھارت کی برآمدات بڑھانے بالخصوص زرعی مصنوعات کی برآمدات میں خوب اضافہ ہوا اور اس میں فیروز الانہ کا کردار بھرپور رہا۔ سن975ء میں انھوں نے IFFCO قائم کی ، متحدہ عرب امارات میں قائم ایک بڑی کاروباری کمپنی۔ یہ کمپنی ایف ایم سی جی، تیل، فروزن فوڈز وغیرہ فراہم کرتی تھی۔ اس کے برانڈزمیں لنڈن ڈیری، ٹفنی، نور، رحما، اگلو اور البکر بہت مشہور ہیں۔ فیروز الانہ کا شمار خلیجی ممالک میں رہنے والے بھارت کے امیرترین لوگوں میں ہوتاہے۔ ’افکو‘ کے بانی کی دولت کا حجم 4.3ارب ڈالر ہے۔
ہم فیروزالانہ کی بات کررہے ہیں لیکن کامیابی کی داستان فیروز الانہ ہی سے شروع نہیں ہوتی بلکہ عبداللہ الانہ سے شروع ہوتی ہے۔ وہی اس گروپ کے بانی ہیں۔ وہ برصغیر پاک وہند کے ایسے ماحول میں پیداہوئے جو کاروبار دوست تھا،تجارت پیشہ لوگوں کو حوصلہ وہمت بخشتاتھا۔ عبداللہ الانہ اپنی خدادصلاحیت کے اظہار کے لئے تجارت کے میدان میں کودپڑے۔ انھوں نی865ء میں تن تنہا ایک ایسی تجارتی کمپنی قائم کی،اس کمپنی کے تحت انھوں نے تجارت کے لئے زرعی اشیاء کی بڑی رینج جمع کرلی۔ جیسے جیسے ان کی دلچسپی میں اضافہ ہوا، ’ہائوس آف الانہ‘ نے بھی ترقی کی۔ 1929ء میں الحاج احمد الانہ کی سربراہی میں اس کمپنی نے بین الاقوامی سطح پر بھی کاروباری آپریشنزشروع کردئیے تاہم الانہ خاندان مقامی سطح پر بھی اپنے کاروباری دائرہ کا ر کو پھیلانا بھی نہ بھولے۔جوسابھائی الانہ نے برآمدات کے دروازے کھولے جبکہ رزاق الانہ ، محمد حسین الانہ اور عرفان رزاق الانہ بین الاقوامی تجارت اور مینوفیکچرنگ کی دنیا میں جاگھسے۔ محمد حسین الانہ نے تجارتی میدان میں فارماسیوٹیکلز، بیکرز اور گارمنٹس کے شعبوں میں خوب نام اور دام کمایا۔ ان کاانتقال6جنوری 2001کو ممبئی میں ہوا۔کاروباری میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے اس شخصیت نے انسانی ہمدردی کے شعبہ میں بھی اہم ترین کردار اداکیا۔ وہ انجمن خیرالاسلام کے چئیرمین تھی، اسی طرح وہ الانہ فائونڈیشن کے ڈائریکٹربھی تھے۔ انھوں نے معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے جو کام کیا، وہ آج بھی ممبئی اور پونا میں متعدد پروفیشنل کالجز کی صورت میں موجود ہے۔ ان میں ایک فارماکولوجی کالج(پونا)، الانہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ ( پونا اور ممبئی) بھی شامل ہیں۔
کامیابی کے اس سفر کو جاری ہوئے 140برس بیت چکے ہیں۔ اب یہ ’الانہ سنز‘ کے نام سے فوڈز اور زرعی اشیاء کے شعبوں میں بھارت کے سب سے بڑے ایکسپورٹرزمیں سے ایک ہے۔ اس کمپنی کو بھارتی حکومت نے ’فائیوسٹار ٹریڈنگ ہائوس‘ قراردیاہواہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہی’’ ہم فروزن حلال بون لیس گوشت برآمد کرنیوالے دنیا کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہیں‘‘۔ صرف یہی نہیں بلکہ الانہ سنز بھارت کی واحد کمپنی ہے جو فروزن گوشت ، پروسیسڈ ، فروزن فروٹ اور سبزیاں برآمد کرتی ہے۔ الانہ گروپ نی969ء میں بھینس کا گوشت ایکسپورٹ کرنا شروع کیا۔ اس وقت اس کی مصنوعات جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ملکوں سمیت دنیا کے 64ممالک میں فروخت ہورہی ہیں۔ گروپ نے بڑے گوشت میں بڑے پیمانے پر ورائٹی فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی کافی برآمد کرنے والوں میں بھی سب سے بڑا مقام ومرتبہ رکھتی ہے اوردلیہ اورسمندری فوڈز پراڈکٹس کی برآمد میں بھی۔ الانہ سنز ایک قابل اعتماد نام بن چکاہے۔ اس کا بنگلورمیں قائم دفتر کافی کا کاروبار سنبھالے ہوئے ہے۔ کمپنی براہ راست کافی پروڈیوسرز سے کافی کے بیج حاصل کرتی ہی، صرف انہی کاشت کاروں سے جو بہترین اور معیاری کافی بیج فراہم کریں۔ اس وقت کمپنی کافی کے کاشت کاروں اور اپنے کسٹمرز کے درمیان ایک انتہائی قابل اعتماد ذریعہ بن چکی ہی، اعتماد کا یہ رشتہ دو دہائیوں کی محنت اور لگن سے قائم ہواہے۔سازگارماحول، زرخیز زمین، سائنسی اندازمیں کاشت اور سخت کوالٹی کنٹرول، ان سب باتوں کے بعد بہترین کافی اس دنیا کو فراہم کی جارہی ہے۔ایسی کافی کا مزہ ہی الگ ہوتاہے۔ فروزن فروٹ اور سبزیوں کی برآمدات میں الانہ گروپ بھارتی کمپنیوں میں سب سے بڑا نام ہے۔ یہاں بھی الانہ گروپ نے طے کررکھاہے کہ وہ بہترین معیار کے بغیر کچھ بھی ڈلیورنہیں کرے گی۔چنانچہ اس بات کا دھیان پرمرحلہ پر رکھاجاتاہے۔پھلوں اور سبزیوں کے انتخاب سے لے کر اس کی پروکیورمنٹ، پروسیسنگ، پیکیجنگ اور کوالٹی کنٹرول تک کے تمام مراحل میں قواعد وضوابط پر سختی سے عمل درآمد کیاجاتاہے۔ یہ سب کچھ اس اندازمیں کیاجاتاہے کہ فروٹ اور سبزی کا مزہ کم نہ ہو۔ وہ اپنے اصل ذائقے کے ساتھ ہی کسٹمر تک پہنچے۔آم، امردو اور مٹر کی برآمد خصوصیت کے ساتھ الانہ گروپ کی پہچان بن چکی ہے۔ الانہ گروپ بھارت سے فروزن فش برآمد کرنے والوں میں پہلا اور آج کا سب سے بڑا نام ہے۔ کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق سمندری فوڈز کی 40سے زائد ورائیٹیز برآمد کی جارہی ہیں۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ ان مصنوعات کی تروتازگی کوبرقراررکھنے کی ہرممکن تدابیراختیارکرتی ہے۔اس کے لئے جدیدترین انفراسٹرکچرقائم کیاگیاہے۔ الانہ گروپ ریگولیٹری باڈیز کے ساتھ مل کر ساحل سمندر کا ماحول صاف کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح وہ انڈسٹری کے ماحولیات پر مضر اثرات کو کم سے کم کرنے میں بھی لگے ہوئے ہیں۔ الانہ گروپ جو زرعی اشیاء برآمد کرتاہے ان میں مصالحہ جات، دالیں، میوہ جات اور دلیہ وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ سب کچھ مہارت، ریسرچ، فنانشل قوت اور دنیا بھر میں اپنی رسائی کی وجہ سے کسی بھی بھارتی کمپنی سے بہتر اندازمیں کام کررہی ہے۔ کمپنی جو مصالحہ جات برآمد کررہی ہی، ان میں سرخ مرچ پائوڈر اور ادھوری پسی ہوئی سرخ مرچ، پسی ہوئی ہلدی اور ثابت ہلدی، سونف، میتھی کے بیج، زیرہ، املی، دھنیا، کلونجی، جائفل، گل سرخ، کالی مرچ، سونٹھ، بڑی الائچی اور اجوائن بھی شامل ہیں۔
اب یہ کمپنی سمندری فوڈز کی پراسیسنگ، انھیں محفوظ کرنے اور فریز کرنے کا منصوبہ بھی رکھتے ہیں۔ دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ اس سب کچھ کا معیار یورپی ہوگا۔اسی طرح پالتو جانوروں کی خوراک بھی تیارکی جاتی ہے اور ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔ لیدرمصنوعات کی تجارت بھی کرتے ہیں۔
الانہ سنز کاقیام865میں عمل میں آیاتھا جبکہ افکو متحدہ عرب امارات میں 1975میں قائم ہوئی تھی۔ نور، ٹفنی، لندن ڈیری، حیات ، اگلو اور رحمہ جیسے مشہور ومعروف برانڈز اسی کے ہیں۔ یہ گروپ 28بزنس سیکٹرز میں کام کررہاہے۔ اس کے پوری دنیا میں 33مینوفیکچرنگ پلانٹس ہیں۔ کمپنی آئل اور فیٹ مینوفیکچرنگ میں بھی سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اس حوالے سے وہ مصر، تیونس، جنوبی افریقہ، ترکی، پاکستان، ملائشیا، انڈونیشیا، چین اور امریکہ میں کاروبار کررہی ہے۔ کمپنی اب سعودی عرب اور انڈیا کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
