عبیدالرحمن
کاروبار پر نوکری کو ترجیح دینا شاید ہمارے خمیر میں شامل ہوچکا ہے ، بہت سے لوگ ہمت نہیں کرتے اور بعض کے لیے عام سا کام کرنا ناک کٹوانے والی بات ہے اور ان کی شان کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ادارے میں 100 سیٹس نکلتی ہیں تو وہاں بلا مبالغہ 10 لاکھ درخواستیں جمع ہوجاتی ہیں ،ہماری اسی بزدلانہ سوچ سے فائدہ اٹھا کر ہی گورنمنٹ NTS جیسے گینگ کے ساتھ مل کر جاب کا اعلان کرتی ہی، عوام فوج در فوج چپڑاسی سے لے کر کلرک اور فیلڈ آفیسر سے لے کر ڈرائیور تک کی سیٹس پر اپلائی کردیتی ہے ، (ہر سیٹ پر اپلائی کرنے کی فیس 400 سے لے کر 1000 تک ہوتی ہے )۔ اس طرح دونوں ادارے مل کر اربوں روپے کمالیتے ہیں اور عوام حالات کو کوستی رہ جاتی ہے۔ سوائے ان 100 کے جن کو جاب ملی لیکن اپنے کاروبار کا خیال کسی کو نہیں آتا بلکہ اگلی جاب ڈھونڈنے لگتے ہیں اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو MBA کر کے بھی جاب ڈھونڈتے ہیں ، خاص طور پر جو بچہ 12،4 کلاسیں پڑھ گیا، مجال ہے جو وہ اپنے کام کا سوچے۔
میں ڈگری یا تعلیم کی مخالفت بالکل نہیں کررہا کہ یہ آپ میں اعتماد پیدا کرتی ہے ، آپ کے روابط پڑھے لکھے لوگوں سے بناتی ہے ، آپ میں گفتگو کی صلاحیت پیدا کرتی ہے ، آپ کی زبان صاف کرتی ہے لیکن یہ کیوں سمجھ لیا جاتا ہے کہ اب آپ نے کسی کے نیچے رہ کر 15،0 ہزار کی نوکری ہی کرنی ہے ، ذلیل ہونا ہے ، آپ اپنے محلے اور خاندان میں ہی خوشحال کاروباری لوگوں پر نظر ڈالیں کہ وہ کتنے پڑھے لکھے ہیں؟؟؟اکثریت کی تعلیم واجبی نکلے گی۔ خاص طور پر سبزی منڈی، غلہ منڈی پر تو0 فیصد ان پڑھ طبقے کا راج ہی، تو جب وہ کر سکتے ہیں تو یقین کریں آپ ان سے سو گنا اچھے طریقے سے کام کرسکتے ہیں۔ بس ہمت ہونی چاہیئے۔
ہمارے محلے میں ایک فرد نے پانچ چھ سال قبل تندور پر روٹیاں لگانے سے کام شروع کیا تھا ، اب ایک ہوٹل کا مالک ہی، اس نے ساتھ والی جگہ بھی لے لی ،چار بندے کام پر رکھے ہیں اور خود بیٹھ کر انھیںگالیاں بکتا ہی، نگرانی کرتا ہے اور پیسے گنتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اَن پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ جاہل اجڈ بھی ہے اور کاروباری اصولوں سے نابلد بھی ، میں اسے دیکھ کر یہی سوچتا ہوں کہ اگر یہ پڑھا لکھا ہوتا تو مزید ترقی کرسکتا تھا ۔ایک اور عزیز ہیں، ان کے چار پڑھے لکھے بیٹے ہیں ، بہت اچھا کماتے ہیں ، ایک بیٹا نِکما نکلا ، پڑھنے سے انکاری ہوا اور موٹر سائیکل مکینک کے پاس کچھ عرصہ کام سیکھ کر اپنی ورکشاپ بنا لی اور اب چاروں بھائیوں جتنا اکیلا کماتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں اور بھی ہیں۔
ہمارا ملک گنجان آبادی کی وجہ سے کاروباری اعتبار سے بہت موزوں ہے ، گاہک بھی کچھ ہی عرصہ میں بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارا کاروباری طبقہ روایتی طریقہ کار پر ہی لگا ہوا ہے۔ اگر آپ کوئی نیا انداز، نیا ٹرینڈ شروع کریں تو اسے بہت تیزی سے مقبولیت ملتی ہے۔ ملتان میں انجینرنگ کے ایک طالب علم نے پیزے کی دکان کیلیے 3 زنانہ روبوٹ تیار کیی، اب پورے علاقے سے گاہک اس کے پاس آرہے ہیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے تفصیل لکھنے بیٹھوں تو تحریر طویل ہوجائے گی۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ غربت اور آبادی کی کثرت کی وجہ سے لیبر بہت سستی مل جاتی ہے۔ لوگ دس بارہ ہزار پر بھی کام کرنے کو تیار ہیں، ورکشاپ والے تو اس قدر ظالم ہوتے ہیں کہ معصوم بچوں کو ہفتے کے 300 روپے دیتے ہیں اور کام بھی کھینچ کے لیتے ہیں یعنی ماہانہ 1200 روپے صرف ۔ اگر لیبر کو مناسب تنخواہ دے دی جائے تو اسی میں خوش ہوجاتی ہے اور اپنا بزنس شروع کرنے کا رسک لینے کو بے وقوفی سمجھتی ہے۔ اگر جدید ٹیکنیکل انداز میں انھیں استعمال کیا جائے تو ان کے سہارے آپ تیزی سے ترقی کرسکتے ہیں اور بجائے روزگار ڈھونڈنے کے دوسروں کو روزگار فراہم کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مناسب تجربہ ، محنت اور مستقل مزاجی ، نت نئے انداز اور دیانت داری جیسے اصولوں کو سامنے رکھ کر کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ ترقی نہ کریں۔
اگر آپ غربت کے منحوس چکر سے نکلنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے بہت ہی ضروری ہے کہ آپ اپنے کام کے بارے میں سنجیدہ ہوجائیں ورنہ بس گزارا ہی کرتے رہیں گے لیکن ترقی نہیں کرپائیں گے۔اپنے علاقے کی مارکیٹ کو دیکھ کر اور کسی سمجھدار شخص سے مشورہ کرکے جلد از جلد کسی شعبے میں تجربہ لینا شروع کردیں یا جس جگہ نوکری کرتے ہیں، ادھر ہی ہر چیز کو اس نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کردیں کہ آپ اگر یہی خود کا کام کریں تو کن کن چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔
بعض لوگ ناتجربہ کاری کا بہانہ کرکے دبکے رہتے ہیں اور نوکری میں ذلیل ہوتے رہتے ہیں۔ یاد رکھیں! تجربے سے مراد بس اس شعبے سے متعلق بنیادی معلومات جاننا ہے جو غبی سے غبی ذہن کا انسان بھی دو تین برسوں میں سیکھ سکتا ہے۔ باقی اصل تجربہ تو اپنے ہاتھ سے کرنے سے ہی آئے گا، پھر ہماری عوام بھی اتنی پروفیشنل نہیں کہ آپ کا تجربہ اور مہارت چیک کرتی پھرے ۔
ایک لڑکے نے 3 سال پہلے میرے سامنے ڈینٹل کلینک کھولا ، پتہ چلا کہ باقاعدہ ڈینٹسٹ نہیں ہے کوئی چھوٹا موٹا ڈپلومہ کیا ہے۔ میں نے اس وقت یہی سوچا کہ بھاگ جائے گا ، اس کے پاس کون آئے گا ، مارکیٹ بھی ایسی کہ وہاں ایزی لوڈ والوں کی دکانیں ہیں یا کتابوں کی۔وہ ایک سال تک فارغ بیٹھا رہا لیکن ہمت نہیں ہاری ، جما رہا اور آج اس کے کلینک کا ماحول ہی بدل چکا ہے۔ اے سی لگوایا ہوا ہی، مشینری جدید لے لی ہے اور کان کھجانے کی فرصت نہیں۔ حالانکہ ملتان میں ہی نشترہسپتال اور ابنِ سینا ہسپتال میں درجنوں پروفیشنل ڈاکٹرز معمولی فیس کے ساتھ بہترین علاج کررہے ہیں لیکن لوگوں کے پاس وہاں جانے کا وقت ہی نہیں ہے۔
دوستو! اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں ، ٹیلینٹد ہیں ، کری ایٹو دماغ رکھتے ہیں تو آج سے ہی اپنا کاروبار کرنے کا مضبوط ارادہ باندھ لیں، بھلے چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو ، ایک ڈائری اٹھائیں، لائحہ عمل تیار کریں اور اس پر کام شروع کردیں۔۔۔
