احمد فہیم
بیروزگاری ہمارے ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنا کاروبار کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ کہاں سے شروع کریں، کون سا کاروبار ان کو کرنا چاہیے،کاروبار کیسے کرنا چاہیے، اس پوسٹ میں میں آسان الفاظ میں ان سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ ضروری نہیں کہ کاروبار کرنے کے لئے آپ کے پاس لاکھوں،کروڑوں کی انویسٹمنٹ ہو، یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کے پاس بزنس اسٹڈیز کی ڈگریاں ہوں۔ اگر آپ کی تعلیم واجبی سی بھی ہے، تو بھی آپ اپنا کاروبار کر سکتے ہیں، اور اس کو کامیابی سے چلا سکتے ہیں۔
سب سے پہلی بات، ہر کاروبار، ہر بندہ نہیں کر سکتا۔ قدرت نے ہم سب کو کوئی نہ کوئی ٹیلنٹ دیا ہوتا ہے۔ ہم وہی کام بہت اچھے سے کر سکتے ہیں، ہم اس کام کو کرنا انجوئے کرتے ہیں۔ اپنی بات کروں تو میری کمیونیکشن سکلز بہتر ہیں۔ میں ٹیچنگ کو انجوائے کرتا ہوں اور یہی میرا پیشہ ہے۔ اسی طرح میں اپنے دوستوں کو دیکھوں تو میرے ایک دوست کا آئی ٹی میں بہت دماغ چلتا ہے۔ وہ کامیاب آئی ٹی پروفیشنل ہے۔ ایک دوست کی سوشل سکلز بہت زبردست ہیں، وہ بہت جلدی لوگوں سے گھل مل جاتا ہے اور تعلقات بنا لیتا ہے، وہ بہت اچھا مارکیٹنگ پروفیشنل بن سکتا ہے۔ آپ نے اپنے ٹیلنٹ کو پہچاننا ہے اور اس ٹیلنٹ کو جاب یا کاروبار کی opportunity سے میچ کرنا ہے، آپ کی کامیابی کے چانسز بڑھ جائیں گے۔
دوسری بات 133 آپ جو کاروبار کرنے جا رہے ہیں، اس میں آپ یا تو کوئی پروڈکٹ(دودھ، گندم، کپڑے وغیرہ) بیچیں گے، یا کوئی سروس(درزی، پلمبر، ٹیوشن وغیرہ) دیں گے۔آپ کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ جو بھی پروڈکٹ یا سروس آپ بیچنے جا رہے ہو، کیا اس کی ڈیمانڈ ہے؟ ڈیمانڈ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ کسٹمرز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ نے شروع میں کسٹمر بنا لئے جہاں سے آپ کو کیش ملنا شروع ہو گیا، تو آپ کے بزنس کی کامیابی کے چانسز بڑھ جائیں گے۔
تیسری بات 133..کاروبار کی کامیابی کے لئے نیک نیت اور ایمان داری بہت ضروری ہے۔ کسٹمر کو بہترین پروڈکٹ یا سروس دیں گے، تو کسٹمر واپس آئے گا اور اپنے ساتھ مزید کسٹمر بھی لے کے آئے گا۔ ایک مثال دیتا ہوں۔ آپ نے دودھ اور ڈیری پروڈکٹس کا کام شروع کیا ہے، آپ نے تہیہ کیا ہے کہ آپ نے خالص، صاف ستھری ڈیری پروڈکٹس کسٹمر کو دینی ہیں، اپنے ارد گرد دیکھیں، کتنی ایسی دکانیں ہیں جہاں یہ چیزیں خالص اور صاف ستھری ملتی ہو؟ بہت کم۔ ایسے میں اگر آپ تھوڑی زیادہ قیمت بھی وصول کریں گے تو کسٹمر ہاتھوں ہاتھ آپ کی پروڈکٹ خریدے گا۔ سروس سیکٹر کی مثال لیں۔ میں ٹیچر ہوں۔ میرا پہلا مقصد یہ ہے کہ سٹوڈنٹ کو اچھے نمبروں سے پاس کروانا ہے۔ میری فیس بعد کا مسئلہ ہے۔ میں نے سٹوڈنٹس کے ہر لیکچر یا سیشن کو productive بنانا ہے۔ دو گھنٹے تین گھنٹے، جتنی دیر کا بھی سیشن ہے۔ میں نے ان کی لرننگ کو maximise کرنا ہے۔ میں اس کوچ کی طرح ہوں جو اپنی ٹیم کو تیار کر کے ٹورنامنٹ میں بھیج رہا ہے۔ ٹیم جیتے گی تو میں جیتوں گا۔ مجھے فیس بھی ملے گی اور میرے سٹوڈنٹس ان کے والدین آگے دس بندوں میں جا کے بتائیں گے کہ ہاں جی یہ ٹیچر اچھا ہے،اس کے پاس بچے کو بھیجیں۔
چوتھی بات 133 کاروبار کرنے سے پہلے، اگر ہو سکے تو اسی سیکٹر میں جاب کریں۔ اس سیکٹر میں کچھ عرصہ جاب کرنے سے آپ بہت کچھ سیکھ لیں گے۔آپ کو کاروبار کی اونچ نیچ 133 اس کی ڈائنامکس سمجھ آ جائیں گی۔ اگر آپ سیدھا خود سے کاروبار سٹارٹ کر دیں گے تو ہو سکتا ہے کہ شروع میں آپ کو کچھ نقصانات اٹھانا پڑیں لیکن آپ نے اگر چند ماہ اسی سیکٹر میں جاب کی ہوئی ہے تو آپ اپنے کاروبار کے شروع نقصانات کو کم سے کم حد پہ لا سکتے ہیں۔
پانچویں بات… بزنس پلان 133 آپ نے جو بھی کام شروع کرنا ہے، اس کے لئے ایک بزنس پلان بنائیں۔ کاغذ اٹھائیں اور اس پر تخمینہ لگائیں گے میرا شروع میں کتنا خرچہ ہونا ہے اور شروع میں میں کتنی سیل کر سکوں گا۔ آپ یہ سارا حساب کتاب 133 مستقبل کے لئے لگا رہے ہیں۔ ہمیں اب پکا تو نہیں پتا ہوتا کہ مستقبل میں کیا ہو گا لیکن ہم محتاط اندازے سے شروع کر سکتے ہیں۔
یہاں مجھے ایک مثال دینا ہو گی۔ایک دفعہ ایسے ہی کچھ دوست بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ایک دوست ہے جس کو مویشی پالنے کا بہت تجربہ ہے۔ بات ہوئی کہ دودھ اور ڈیری کا کام کیا جائے تو وہی دوست کہتا کہ یہ کم از کم ایک کروڑ کی انویسٹمنٹ ہے۔ ایک لاکھ کی ایک بھینس ہو تو سو بھینسوں سے بڑے پیمانے پہ کام شروع کیا جا سکتا ہے جس سے کچھ قابل ذکر پرافٹ بھی ہو۔ بات اس کی ٹھیک تھی لیکن اگر آپ کے پاس شروع میں ایک کروڑ روپیہ نہ بھی ہو تب بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔آپ کے سپلائرز ہوں گے، باڑے والے۔ آپ فی کلو ان کو پانچ روپے زیادہ دو، ان سے اگریمنٹ کرو کہ وہ بھینسوں کو ٹیکے لگائے بغیر اچھا صاف ستھرا خالص دودھ آپ کو دیں گے۔ اس خالص دودھ کو آپ صفائی سے کسٹمر تک ڈیلیور کریں۔ اب اس کے لئے دو آپشن ہیں۔ آپ شہر میں کہیں یا تو دکانیں کرایا پہ لیں یا پھر لوگوں کے گھروں میں دودھ ڈیلیور کروائیں، اس کے لئے آپ کو بندے رکھنے پڑیں گے۔ ذرا ایک فرضی calculation کرتے ہیں۔ آپ کو اپنے کاروبار کی لاگت کا اندازہ کرنا ہوگا۔ اس میں variable cost کتنی ہے اور فکسڈ کاسٹ کتنی ہے۔
ویری ایبل (متغیر) کوسٹ وہ لاگت ہے جو نمبر آف یونٹس سولڈ کے ساتھ بڑھتی اور کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ کوسٹ آف purchase. میں اگر اپنے سپلائر سے دودھ، فی لٹر 60 روپے کے حساب سے خریدتا ہوں تو یہ میری variable کوسٹ ہے۔ جتنے زیادہ لیٹر دودھ خریدوں گا، اتنی میری purchase کوسٹ بڑھے گی، اگر کم لیٹر خریدوں گا توpurchase کوسٹ کم ہو گی۔ دوسری طرف ہے فکسڈ کوسٹ جو نمبر آف یونٹس سولڈ کے ساتھ بڑھتی یا کم نہیں ہوتی،فکسڈ رہتی ہے۔ مثال کے طور پہ میں نے بندے رکھے ہیں۔ فی بندہ تنخواہ بیس ہزار روپے ماہانہ فکسڈ ہے تو یہ میری فکسڈ کاسٹ ہے۔ بزنس کے شروع میں ضروری ہے کہ آپ کی فکسڈ کاسٹ 133 کم سے کم ہو۔ جتنی فکسڈ کوسٹ کم ہو گی، اتنی جلدی آپ اس کو..cover کرو گے، ایک دفعہ فکسڈ کوسٹ کوور کر لی تو بزنس پرافٹ میں چلا جائے گا..
فرض کریں آپ دودھ کی سپلائی کا کام شروع کر رہے ہیں۔ آپ نے آٹھ بندے کام پہ رکھے ہیں۔ بیس ہزار ماہانہ ان کی تنخواہ ہے۔ بیس ضرب آٹھ 133 ماہانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار ان کی تنخواہوں کے ہو گے۔
آپ دودھ فی لٹر، 80 روپے بیچو گے۔ آپ سپلائر سے ساٹھ روپے لیٹر کے حساب سے خرید رہے ہو، اس کا مطلب یہ ہوا کہ فی لٹر آپ کا گراس پروفٹ یا کنٹریبیوشن بیس روپے ہے۔ آپ جتنے زیادہ لٹر بیچو، گے، اتنا زیادہ گروس پرافٹ بڑھتا جائے گا۔ مثال کے طور پہ آپ کا ایک بندہ، ساٹھ لیٹر روز سپلائی کر رہا ہے، آپ یہ کام ماہانہ تیس دن کے لئے کر رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ماہ میں آپ
ساٹھ لٹر فی بندہ X تیس دن X آٹھ بندے 236 14400 لیٹر ماہانہ سپلائی کر رہے ہو۔
166 لٹر کو آپ بیس روپے فی لٹر سے ضرب دیں تو یہ بنتے ہیں… دو لاکھ اٹھاسی ہزار روپے۔
یہ آپ کا ماہانہ گروس پرافٹ ہے۔ اس میں سے آپ ان بندوں کی تنخواہیں نکال دیں، ایک لاکھ ساٹھ ہزار 133 تو باقی بچتا ہے 133 128000 133 دوسرے اخراجات، ماہانہ بنیادوں پہ نکالیں 133. اٹھائیس ہزار 133 تو بھی آپ کو ماہانہ ایک لاکھ کی بچت ہو رہی ہو گی۔
یہ صرف ایک مثال ہے۔ اس طرح کی calculation کرنے سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کیا آپ اپنا ٹارگٹ پرافٹ کما سکیں گے؟ اگر نہیں کما سکیں گے تو کسی طرح نمبر آف لٹرز سولڈ کو بڑھانے کی کوشش کریں۔ ہر بڑھتا ہوا لٹر 133 آپ کے گروس پروفٹ اور پھر نیٹ پرافٹ کو بڑھائے گا۔ آپ اس طرح کی calculation کر کے اندازہ کر سکتے ہیں کہ ٹارگٹ پرافٹ حاصل ہو گا یا نہیں۔ اسی کے مطابق مزید حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ ریٹیل ٹائپ بزنس ہے. اس بزنس میں آپ جتنی زیادہ سپلائی بڑھائیں گے… اتنا زیادہ آپ کا پرافٹ بڑھے گا۔
GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX
Don't worry we don't spam
