پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد غیر محفوظ خوراک کھانے کے سبب ہلاک ہورہے ہیں۔ماہرین نے اس کاحل چھوٹی اور درمیانی سطح کے مقامی کاروباری طبقے کی تربیت اور انھیں حفظان صحت کے اصولوں سے آگاہ کرنے کو قراردیا ہے۔ معروف فوڈ ٹیکنالوجسٹ ڈاکٹر محمد جہانگیر نے حال ہی میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام منعقدہ ایک تربیتی ورکشاپ میں دنیا کی بہترین فوڈ سیفٹی تکنیکس کو پاکستان میں فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ورکشاپ میں 65شرکاء نے حصہ لیا جن کا تعلق بیکری، فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس،ہوٹل، جوس کمپنیز اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے سے تھا۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد نے اپنے خطاب میں فوڈ سیکٹر کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ مستقل اور عارضی نوعیت کی مصنوعات کی تیاری میں فوڈ سٹینڈرڈ کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ بالخصوص ایسے لوگ جن کا تعلق ریستوران،کیفے،کلب، ہوٹل،فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس، ری ٹیل فوڈ آؤٹ لیٹس اور ایونٹ ہالز سے ہے۔سمیڈا پنجاب کے چیف مسٹر حسنین جاوید نے کہا کہ ان کا ادارہ ہر سطح پر فوڈ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے کاروباری طبقے کو تربیت دے گا اور اسی نوعیت کے پروگرام پورے پنجاب میں منعقد کرے گا۔
