پاکستان پرخوش حالی کے دروازے کھلنے والے ہیں

محمداعجازتنویر
ابھی چین کی طرف سے پاکستان کے لئے ایک تاریخی معاشی پیکیج کا چرچا تھا کہ اب خبرآئی ہے، سعودی عرب نے بھی چین کی طرز پر پاکستان کو ایک بڑا اکنامک پیکج دینے کا فیصلہ کیاہے اور اس کی پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے۔ سعودی عرب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں ڈیمز، پیٹروکیمیکل ،تیل کی صنعت اور توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ سعودی عرب کو یہ بھی احساس ہے کہ مضبوط ایٹمی پاکستان عرب ممالک کے بہتر مفاد میں ہے۔
جس طرح چین ، سعودی عرب اور ترکی سمیت مختلف ممالک سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کا رخ کررہے ہیں، اس کے نتیجے میں پاکستان کا جی ڈی پی تیزی سے اوپر جائے گا، پاکستانی حکومت ملک میں ایسا ماحول یقینی بنانے کے لئے کوشش کررہی ہے جس میں سرمایہ کاروں کو تحفظ کا احساس ہو اور وہ بلاخوف وخطر پاکستان میں اپنے کاروباری منصوبے شروع کرسکیں۔
ہرکوئی جانتاہے کہ پاکستان دنیا کے ایک بہترین جیوپالیٹیکل اہمیت کے حامل خطے میں واقع ہے۔ چین کو مشرق وسطیٰ میں جانے کے لئے پاکستان کے راستے سے گزرنا ہے، مشرق وسطیٰ کے ممالک کو دنیا کے سب سے بڑے ملک(بلحاظ آبادی) میں جانے کے لئے پاکستان کی مدد درکار ہے۔ روس کو جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا تک اپنا مال تجارت پہچانے کے لئے پاکستان سے راستہ چاہئے جبکہ بھارت اور اس سے ملحقہ ممالک کو وسطی ایشیا میں جانے کے لئے پاکستان سے گزرکر جاناہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کی بڑی طاقتیں پاکستان سے رشتہ مضبوط بنارہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں پاکستان کے لئے جتنے بڑے معاشی پیکیجز کا اعلان کررہی ہیں، کیا پاکستانی قوم کے مضبوط ہونے اور ترقی کرنے کے لئے یہ پیکیجز ہی کافی ثابت ہوں گے؟
نہیں! بالکل نہیں!!
قرآن مجید کا بھی فیصلہ ہے کہ 
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت کو بدلنے کا 
یہ سارے معاشی پیکیجز تو دروازے ہیں جو ہمارے لئے کھل رہے ہیں، ترقی کے دروازے۔ ترقی اور خوشحالی کا حصول تب ہوگا جب ہم ان دروازوں میں سے گزرکر آگے بڑھیں گے۔ ہمیں اٹھنا ہوگا، آگے بڑھنا ہوگا۔ دروازے کھل جائیں اور ہم اپنے گھر ہی میں بیٹھے رہیں تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ایسا بھی نہیں ہوگاکہ حکومت پاکستان ہمیں ہمارے گھر آکر ہمیں ترقی اور خوشحالی کے راستوں پر سفر کرنے کا ٹکٹ فراہم کرے۔ ہمیں اس سفر کا انتظام خود ہی کرنا ہوگا اور اس سفر پر بقدم خود چلناہوگا۔انفرادی طور آگے بڑھنا ہو گا ۔ انٹر پرینیوریل کلچر کی ملک میں فضا قائم کرنا ہو گی۔ 
چیمبرز آف کامرس ’’انٹر پرینیوریل کلچر ‘‘ کیلئے بڑی مہم چلائیں ۔ 
 خام مال کے بجائے ویلیو ایڈیڈ پروڈکٹس کے ذریعے اپنے برانڈز کا بزنس کرکے ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں ۔ 
 ہنر مندی کا کلچر عام کرنے اور اس کے نتیجے میں فائدہ اٹھانے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ 
دنیا بھر میں تجارتی مواقع موجود ہیں ، بعض ممالک میں پہنچنے کے لئے ہمیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں، بعض کے ہاں جانے کے لئے کچھ محنت کرنی پڑے گی اور بعض ممالک میں جانے کے لئے نسبتاً زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ ہم کہیں پہنچ ہی نہیں سکتے۔ 
صدیوں پہلے بھی اس دنیا کے مختلف حصوں میں تجارتی میلے لگتے تھے، اب صدیوں بعد بھی لگ رہے ہیں، اب انہیں تجارتی میلہ نہیں کہتے، ایکسپو کہتے ہیں، فرق بس اتنا ہے! پہلے تاجروں کو ان میلوں میں شرکت کے لئے مہینوں کاسفر طے کرنا ہوتاتھا لیکن اب گھنٹوں میں پہنچاجاسکتاہے۔ صدیوں پہلے تاجر سال میں چند ایک تجارتی میلوں سے فائدہ اٹھاتاتھالیکن آج کا تاجر اچھی منصوبہ کرے تو ایک برس میں سینکڑوں ایکسپوز میں شرکت کرسکتاہے۔ آج کے تاجر کو آسانیاں اور سہولتیں مل گئی ہیں۔ ضرورت صرف ان آسانیوں اور سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔
چین ، سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک کی طرف سے پاکستان کے لئے بڑے معاشی پیکجز سے بہترین انداز میں فائدہ اٹھانے والے وہ مینوفیکچرز ہوں گے جو اپنی مینوفیکچرنگ کو زیادہ معیاری بنائیں گے اور اس کا دائرہ وسیع کریں گے، اپنے مال کی کھپت کے لئے سو مواقع میں سے سومواقع حاصل کریں گے، ایسے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز جو اپنے میدانوں میں سب سے آگے ہوں گے، جو مشرق سے مغرب تک تجارت کرنے کا عزم ، حوصلہ اور ہمت رکھتے ہوں۔

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo