ہمارے اور ان کے درمیان فرق

جاویدچودھری
_7 مارس چاکلیٹ بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے‘ کمپنی کا ہیڈ کوارٹر نیو جرسی میں ’’ماؤنٹ اولیو‘‘ میں واقع ہے‘ ملازمین کی تعداد 16 ہزار ہے اور سالانہ آمدنی 33 ارب ڈالر ہے‘ یہ کمپنی قسم کے چاکلیٹ بناتی ہے‘ یہ مصنوعات دنیا کے 55 ممالک میں فروخت ہوتی ہیں‘ یورپ مارس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے‘ اس کی وجہ اس کا یورپی ذائقہ ہے‘یہ کمپنی 1932ء میں برطانیہ میں بنی تھی‘ اس نے یورپی ذائقے کو ذہن میں رکھ کر چاکلیٹ بنانا شروع کئے تھے‘ یہ کمپنی بعد ازاں امریکا شفٹ ہو گئی لیکن ذائقے کی روایت اسی طرح جاری رہی‘ کمپنی نے دنیا کے مختلف ممالک میں فیکٹریاں لگا رکھی ہیں‘ مارس کی ایک فیکٹری ہالینڈ میں بھی ہے‘ یہ فیکٹری یورپ کو چاکلیٹ سپلائی کرتی ہے‘ مارس کا بزنس پوری رفتار سے چل رہا تھا‘ مالکان اور کارکن دونوں مطمئن تھے‘ منافع مل رہا تھا‘ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ بھی ہو رہا تھا اور کمپنی حکومت کو بروقت اور پورا ٹیکس بھی دے رہی تھی چنانچہ ہر طرف ’’ستے خیراں‘‘ تھیں لیکن پھر ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا اور 84 سال پرانی کمپنی کی بنیادیں ہل گئیں۔
e16 یہ واقعہ جرمنی میں پیش آیا‘ جرمنی مارس کی مصنوعات کی بڑی مارکیٹ ہے‘ جرمنی کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کچھ اور کھائیں یا نہ کھائیں لیکن یہ مارس کے چاکلیٹ ضرور کھاتے ہیں۔ یہ 8 جنوری 2016 ء کی بات ہے‘ ایک جرمن خاتون نے مارکیٹ سے چاکلیٹ خریدی‘ ریپر کھولا اور بار کو ’’چک‘‘ مارا‘ خاتون کو اس میں کوئی غیر معمولی چیز محسوس ہوئی‘ اس نے فوراً لقمہ ہتھیلی پر الٹ دیا‘ چاکلیٹ کے لقمے میں پلاسٹک کا چھوٹا سا ٹکڑا تھا‘ خاتون نے سمجھا یہ چاکلیٹ کے ریپر کا ٹکڑا ہے لیکن جب اس نے پلاسٹک کے ٹکڑے کو غور سے دیکھا تو پتہ چلا اس کی ہیئت اور رنگ ریپر سے مختلف ہے اور یہ چاکلیٹ میں مکس تھا‘ وہ خاتون واپس سٹور پر گئی‘ چاکلیٹ کاؤنٹر پر رکھا‘ پلاسٹک کا ٹکڑا دکھایا اور تحریری شکایت کا مطالبہ کر دیا‘ سٹور کی انتظامیہ نے چاکلیٹ اور پلاسٹک کا ٹکڑا قبضے میں لے لیا‘ خاتون سے تحریری شکایت لکھوائی اور سارا میٹیریل کمپنی کو بھجوا دیا‘ چند سطروں کی اس شکایت اور پلاسٹک کے اس چھوٹے سے ٹکڑے نے پوری کمپنی کو ہلا کر رکھ دیا‘ یہ نمونہ امریکا تک گیا‘ تحقیقات ہوئیں‘ پتہ چلا پلاسٹک کا یہ ٹکڑا نیدر لینڈ کی فیکٹری سے چاکلیٹ میں مکس ہوا تھا‘ یہ پیکنگ کا ٹکڑا تھا‘ یہ اڑ کر چاکلیٹ کے ڈرم میں گرا‘ بارز بننے کے عمل کے دوران چاکلیٹ میں مکس ہوا اور یہ مختلف گوداموں‘ سٹوروں اور دکانوں سے ہوتا ہوا اس خاتون کے دانتوں تک پہنچ گیا‘ خاتون کی شکایت درست نکلی‘ کمپنی کے پاس اب دو آپشن تھے‘ اس خاتون سے معذرت کرتی‘ اسے دس بیس ہزار یوروز دیتی‘ زندگی بھر فری چاکلیٹ کی پیش کش کرتی اور معاملہ ختم ہو جاتا یا پھر یہ دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں صارفین سے معذرت کرتی‘ مارکیٹ میں موجود اپنی تمام چاکلیٹس واپس منگواتی اور اپنا پورا سسٹم ٹھیک کر لیتی‘ کمپنی کو پہلا آپشن سوٹ کرتا تھا‘ کیوں؟ کیونکہ کمپنی نے صرف ایک غریب خاتون پر چند ہزار یوروز خرچ کرنے تھے اور بات ختم ہو جاتی جبکہ دوسرے آپشن میں جگ ہنسائی بھی تھی اور اربوں ڈالر کا نقصان بھی اور مصنوعات کی ساکھ بھی داؤ پر لگ جاتی لہٰذا پہلا آپشن عقل مندی تھی لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی‘ کمپنی نے دوسرا آپشن پسند کیا‘ مارس نے دو دن قبل دنیا کے 55 ممالک سے اپنے چاکلیٹ واپس منگوانے‘ انہیں تلف کرنے اور ان کی جگہ تازہ سپلائی بھجوانے کا اعلان کر دیا‘ کمپنی نے آج اپنے تمام ڈیلرز کو ہدایات جاری کر دی ہیں ’’آپ وہ تمام ڈبے واپس بھجوا دیں جن پر 19 جون 2016ء سے 8 جنوری 2017ء تک کی ایکسپائری ڈیٹس لکھی ہیں‘‘۔
1918 مارس کے اندازے کے مطابق دنیا کے 55 ممالک سے ایک ارب سے زائد ڈبے واپس آئیں گے اور کمپنی کو پاکستانی روپوں میں 300 سے 500 ارب روپے نقصان ہو گا‘ ان چاکلیٹس کی واپسی اور تلفی کا کام بھی مشکل اور مہنگا ثابت ہو گا‘ کمپنی کو دنیا میں کوئی ایسی جگہ تلاش کرنی پڑے گی جہاں چاکلیٹس کو ضائع کرتے وقت ماحولیاتی آلودگی نہ پھیلے‘ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں امریکا‘ یورپ اور جاپان سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملک مارس کو اپنی حدود میں اس ماحولیاتی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیں گے چنانچہ کمپنی کو افریقہ یا ایشیا کا کوئی ایسا ملک تلاش کرنا ہو گا جس کی حکومت چند لاکھ ڈالر لے کر اپنے ملک کو گندہ کرنے کی اجازت دیدے ‘ کمپنی کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے‘ یہ واقعہ مدت تک صارفین کے ذہن میں رہے گا‘ یہ جب بھی مارس چاکلیٹ کو چک ماریں گے‘ انہیں اپنے منہ میں پلاسٹک کا دھاگہ محسوس ہو گا‘ صارفین کی اس فیلنگ کا تاوان بھی کمپنی کو ادا کرنا پڑے گا‘ کمپنی کی سیل بھی متاثر ہو گی لیکن کمپنی نے اس کے باوجود مالیاتی اور ساکھ کا نقصان برداشت کرنے کا فیصلہ کیا‘ کیوں؟ یہ کیوں دراصل وہ فرق ہے جو مغرب کو مغرب اور مشرق کو مشرق بناتا ہے‘ جو ہم مسلمان معاشرے اور کافر معاشرے کے درمیان دیوار بنتا ہے‘ یہ دیوار‘ یہ فرق کیا ہے اور ہم آج تک اس فرق کو کیوں نہیں سمجھ سکے۔
2191 ایک طرف وہ لوگ ہیں جو چاکلیٹ میں پلاسٹک کا معمولی ٹکڑا نکلنے اور گیئر باکس سے آواز آنے پر کھربوں روپے کا نقصان برداشت کرتے ہیں اور دوسری طرف ہم ہیں جن کے کھانوں سے چھپکلیاں نکل آئیں یا دودھ سے ڈٹرجنٹ پاؤڈر کوئی دکان تک بند نہیں ہوتی۔

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo