«استاد دوپراٹھے اور ایک دودھ پتی»
یہ پہلی آوازتھی جو میںنے»نیوبسم اللہ آفریدی ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ» میں داخل ہوتے ہی سنی۔ یہ ڈھابا(سڑک کنارے چلنے والا ریسٹورنٹ)جنوبی کراچی میں میری رہائش گاہ کے قریب واقع ہے۔ قریباصبح ساڑھے سات بجے کا وقت تھا، ہر میز کے اردگردلوگ بیٹھے تھے، کوئی بھی کرسی خالی نہیں تھی۔پورے ماحول میں پکنے والے پراٹھوںکی خوشبوپھیلی ہوئی تھی اور ہرلمحہ انڈے ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ مجھے یونیورسٹی جانے کے لئے جس بس سٹاپ پرجانا ہوتاہے، یہ ڈھابا اس کے راستے میں آتاہے۔ یونیورسٹی میں چار سال تک جاتا رہا، اس دوران، میں روز یہاں ناشتے کا یہ ماحول دیکھتا، تیز ترین سروس بھی دیکھتا، لیکن کبھی ڈھابے والوں کے ساتھ گپ شپ لگانے کا موقع نہیں ملا تھا۔
مجھے ڈھابا والوں کی یہ صبح سویرے ان تھک محنت بہت حیران کرتی تھی۔ چائے بنانے والا، پراٹھے پکانے والا اور میزوں پر ناشتہ فراہم کرنے والا ہر کوئی اپنے کام میں پوری طرح ڈوبا ہوا نظر آتا تھا۔ یوں یہ ڈھابا نہایت موثر انداز میں چل رہاتھا۔
اگر صرف بات کراچی شہر کی کریں تو آپ کو شہر میں ہرجگہ ڈھابے ایسے انداز ہی میں کاروبار کرتے نظر آئیں گے، یہ زیادہ تر پٹھانوں کی ملکیت ہیں۔ یہ ڈھابے صرف ناشتہ کے وقت ہی گرم نہیں ہوتے بلکہ دن کے دوسرے اوقات میں بھی سروس فراہم کرتے ہیں، لوگ اپنے مہمانوں اوردوستوں کو چائے پلانے کے لئے یہاں آتے ہیں، کام کاج نہ کرنے والا طبقہ بھی یہاں اتا ہے، چائے کے ایک دو کپ پیتے ہوئے فلمیں دیکھتا ہے کیونکہ ہر ڈھابے میں ایک بڑا ٹی وی ضرور چل رہا ہوتا ہے، تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نوجوان لڑکے حتیٰ کہ لڑکیاں بھی گروہ کی صورت میں یہاں آتی ہیں، گرما گرم چائے پر گپیں ہانکتی ہیں اور قہقہے اڑاتی ہیں۔ کوئی دور تھا کہ یہ ڈھابےمردوں کے لئے مخصوص سمجھے جاتے تھے لیکن اب نہ صرف لڑکیاں یہاں آکر وقت گزارنا فیشن سمجھتی ہیں بلکہ بعض ڈھابے تو خواتین بذات خود چلا رہی ہیں۔ حتیٰ کہ کراچی می ایک ڈھابا ایسا بھی ہے جو مکمل طور پر خواتین کے لئے مختص ہے۔
آج کے دور میں جب مہنگائی نے ہر فرد کا جینا مشکل کر رکھا ہے، لوگ لش پش کرتے ریستورانوں کے بجائے انہی ڈھابوں سے دوپہر اور رات کا کھانا بھی کھاتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر ڈھابوں کی تیارکردہ چیزوں کا معیاربہتر نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود وہاں لوگوں کا جم غفیر کھانے پینے میں مصروف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں کاروبار کھڑا کرنا مشکل ہے، کراچی میں ڈھابوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔ اس بڑھتے ہوئے کلچر نے شہری گھرانوں کو بھی اس طرف متوجہ کیا ہے، اب خاندان کے خاندان آتے ہیں، رات گئے یہاں مکھن میں فرائی دال کے ساتھ گرما گرم پراٹھے کھارہے ہوتے ہیں، اس کے بعد دودھ پتی یا قہوہ کا دور ہوتا ہے۔
عبدالکریم نامی ایک شخص اپنے تین دوستوں کے ساتھ ڈھابے پر بیٹھا چائے اور پراٹھے کا انتظار کررہاتھا، اس نے بتایا کہ وہ روزانہ یہاں سے ناشتہ کرتا ہے، وہ بنیادی طور پر چارسدہ کا رہنے والا ہے اور یہاں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ اکثر کھانے یہاں کھاتا ہے اور اس ڈھابے کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہے۔ عالمگیرخان، ڈھابے کا کیشیئر، بتاتا ہے کہ پولیس اہلکاروں سمیت ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد بھی چائے، سموسے اور اسی طرح کی چیزیں کھانے کے لئے اس کے ڈھابے پر آتی ہے۔ ایک دوسرے گاہک طارق نے بتایا کہ یہاں نہایت معقول پیسوں میں اس کا ناشتہ ہوجاتا ہے، پچیس روپے کا پراٹھا، ساتھ آملیٹ منگوالیں تو چالیس روپے بن جاتے ہیں اور بیس روپے میں چائے کا کپ۔ اس ڈھابے کی معقول قیمت والی چیزیں اسے کسی دوسری جگہ ناشتہ کرنے سے روکے ہوئے ہیں۔
یہ ڈھابے صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ آپ کو پاکستان میں جابجا مل جائیں گے۔ حتٰی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ہر سیکٹر میں درجنوں ڈھابے کاروبار کررہے ہیں۔ بالخصوص وہ ڈھابے ازحد مشہور ہیں جو پختون بھائی چلارہے ہیں کیونکہ پاکستان میں لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ مزیدار چائے اور پراٹھے پٹھان ہی بناسکتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں قائم ڈھابوں میں بیٹھ کر کھانے پینے کا الگ ہی مزہ ہوتا ہے، خوبصورت نظارے، پرلطف فضا اور مزیدار کھانا پینا۔
یہ بات بھی جان لیں کہ ڈھابے صرف پاکستان ہی کی روایت نہیں بلکہ پاکستان کے ہمسائیہ ممالک میں بھی یہ کلچر موجود ہے۔ بھارت بالخصوص وہاں کے صوبہ پنجاب میں شاہرائوں کے کنارے یہ چھوٹے ریستوران آپ کوبڑی تعداد میں مل جائیں ۔ بھارت میں ڈھابا اس ریستوران کو کہتے ہیں جہاں پنجابی کھانے ملتے ہوں۔ دراصل وہاں ٹرکوں کے زیادہ تر ڈرائیورز کا تعلق پنجاب سے ہوتا ہے، اس لئے ان کی سہولت کے لئے پنجابی کھانوں والے یہ ریستوان جگہ جگہ بنائے گئے، وہاں پنجابی میوزک بھی چل رہا ہوتا ہے کیونکہ اسے پورے بھارت کے لوگ پسند کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ڈھابا کانام ڈبہ سے نکلا ہے۔ پنجاب میں کسی دور میں ڈبہ کھانے کے باکس یعنی ٹفن کو کہتے تھے۔ یہی ڈبہ لہجے کی تبدیلی کی وجہ سے ڈھابا بن گیا۔ بھارت میں کہاجاتا ہے کہ پنجابی جہاں بھی گیا، وہاں ڈھابا کھل گیا، چونکہ پنجابی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی چاند پر بھی جائے تو وہاں بھی ڈھابا کھلا ہوا ملے گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کلچر خالصتا پنجابی ہے، پنجاب کی سرزمین سے اس کا آغاز ہوا، پہلا ڈھابا کس جگہ پر کھلا تھا، اس کا کوئی ریکارڈ نہیں تاہم کہاجاتا ہے کہ آغاز میں یہ پاکستان میں واقع جی ٹی روڈ کے کنارے کھلے ہوں گے، یہ سڑک پشاور سے شروع ہوکر بھارت شہروں امرتسر، دہلی اور کلکتہ تک جاتی ہے۔
عربی کا ایک مقولہ ہے کہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ انسان اب اپنے روایتی کلچر لوٹ رہا ہے، اس نے ماڈرن ازم کو اچھی طرح دیکھ لیا، اس کے اندر ہر اعتبار سے زندگی گزاری لیکن اسے سکون نہیں ملا، سکون اور اطمینان فطری زندگی ہی میں ہے۔ یہ ڈھابے انسان کی فطری زندگی ہیں، مغرب کے اندر بھی یہ فطری ریستوران موجود ہیں، اگرچہ انھیں کوئی دوسرا، تیسرا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں اچھی بات ہے کہ ڈھابوں کی صورت میں ایک ایسا کلچر زندہ ہورہاہے جسے کارپوریٹ کلچر نے نگل لیاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
