چینی کم معیار کا مال پاکستان کو کیوں بیچتے ہیں؟ اہم حقائق سامنے آگئے

ڈاکٹرعبیداللہ

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے کون واقف نہیں۔ پشاور میں بڑے عرصے کے بعد یہ تیسرا بڑا ہسپتال تھا جو کہ عمارت سے لے کر اوزار اور مشینوں تک ماڈرن سہولتوں سے آراستہ تھا۔ اس کی تعمیر ہماری افسر شاہی کے سرخ فیتے کی ایک لمبی داستان ہے لیکن میں وہ داستان کسی اور موقع کے لئے چھوڑ دینا چاہتا ہوں۔ آپ کو صرف اتنا بتادوں کہ 1987ء میں یہ ہسپتال مکمل ہوگیا تھا لیکن 1997ء تک حکومت اسے مریضوں کے لئے کھول نہ سکی۔ جب آخری چارے کے طور پر اسے کھولنا ہی پڑا تو خیبر اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے آدھا آدھا سٹاف لے کر اسے گویا پرائے خون سے نئی زندگی دے دی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ چھ ماہ تک اس میں کوئی مریض نہ دیکھا جا سکا کیوں کہ دس سال یونہی پشاور کے سخت موسموں کا سامنا کرتے کرتے اس کے سارے گٹر بھی بند اور دروازے ٹیڑھے ہو گئے تھے۔ حیات آباد کمپلیکس کا ذکر یوں آیا کہ گزشتہ روز انٹر نیٹ پر چین کے بارے میں ایک خبر پڑھی۔ بیجنگ سے باہر کسی شہرمیں اِن جنّوں نے ایک پندرہ منزلہ ہوٹل کی ساری عمارت صرف چھ دن میں تعمیر کردی البتہ انہوں نے بنیادیں پہلے سے بنادی تھیں۔ بقیہ ساری عمارت فیکٹری میں مختلف ٹکڑوں میں الگ الگ بنتی رہی۔ ان کو اس مقام پرکوئی فکس کرین بھی نہیں لگانی پڑی تھی۔ بس ایک چلتی پھرتی کرین ایک ایک حصہ کرکے تیزی سے بلند ہوتی عمارت کے اوپر یہ ٹکڑے رکھتی گئی۔

چینیوں کے بارے میں یہ کوئی نیا معرکہ نہیںجس نے دنیا کو حیران کیا ہو۔ اولمپک سٹیڈیم بھی صرف تین ماہ میں تیار ہوگیا تھا اور باقی کام بھی اتنی تیزی سے ہوتا رہا کہ اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی نے مجبور ہوکر چینی حکومت سے درخواست کی کہ ذرا ہاتھ ہولا رکھے کہ ہم اس تیزی سے تمام ترقیاتی کام کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ چینی دنیا بھر میں اپنی انتھک محنت کے لئے مشہور ہیں۔ وہ جب بھی کوئی تعمیراتی کام شروع کرتے ہیں تو پھر ہاتھ روکنا جرم ہوجاتا ہے۔ شفٹوں میں کام کو اس طرح سے جاری رکھتے ہیں کہ ایک منٹ کے لئے بھی کام میں رخنہ نہیں پڑتا۔ سنا ہے پاکستان میں کسی جگہ ایک چینی فرم کو پل بنانے کا ٹھیکہ اس شرط پر ملا کہ مزدور صرف مقامی ہی لیں گے۔ تاہم ایک ہفتے میں ہی چینی فرم کا ناک میں دم آگیا اور حکومتِ پاکستان سے درخواست کی کہ مقامی مزدوروں کے ساتھ تو کام نہیں کیا جا سکتا کہ وہ گھنٹوں گھنٹوں نماز اور کھانے پینے کے بہانے غائب رہتے ہیں۔

ہمارے نمبر ایک سٹی سکول میں ایک استاد ہوا کرتے تھے جناب الٰہی بخش صاحب۔ وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمیں مفت پڑھایا کرتے تھے۔ ہم اتنے ناشکرے تھے کہ اس پر بھی بہانے بنا کر کلاس سے بھاگنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دن کسی لڑکے نے کہا کہ ’سر نماز کے لئے جانا ہی‘۔ الٰہی بخش صاحب مجبور ہوگئے لیکن اجازت دینے سے قبل اتنا کہا کہ ’ضرور نماز پڑھو لیکن یاد رکھو، کام بھی عبادت ہی ہی‘۔ سچ ہے کہ وہی قوم دنیا میں ترقی کرتی ہے جو کام کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے۔ ایک طرف ہماری قوم ہے کہ چھٹیوں کی شوقین ایسی ہے کہ کرکٹ کے میچ کے لئے بھی پورے ضلع یا صوبے میں چھٹی ہوجاتی ہے۔حدیث مبارک ہے کہ دنیاآخرت کے لئے کھیتی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ نماز کے بہانے سرکاری دفتر سے گھنٹہ پہلے اور گھنٹہ بعد میں غائب ہو جایا کریں۔قرآن کریم میں تو صاف صاف بتا یا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز بھی پڑھ کر پھر دنیا میں رزق کمانے کے لئے پھیل جاؤ۔

چین نے اپنی محنت کی بدولت دنیا کے لئے ایک بڑے مینوفیکچر نگ مرکز کی جگہ بنا لی ہے۔ ہمارے ہاں کچھ لوگوں کو ایک غلط فہمی ہے کہ چائنا کا مال غیر پائیدار ہوتا ہے۔کیونکہ جو چینی مال ہمارے ملک میں ملتا ہے وہ دونمبر کا ہوتا ہے اور جلد ہی جواب دے جاتاہے۔ واقعی چین سے ایک غلطی ہوئی ہے کہ اپنا معیار دنیا میں نہیں بنا سکا۔ ہر ملک کا اپنا اپنا سٹینڈرڈ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر ملک کی ڈیمانڈ کے مطابق چائنا اسی سٹینڈرڈ کا مال بنا تا ہے۔ آپ پورے یورپ (سوائے جرمنی کی) اور امریکہ میں گھوم پھرلیں تو معلوم ہوگا کہ 99 فیصد اشیاء چین کی بنی ہوئی ہیں۔ اور وہ اسی ملک کے مقرر کردہ معیار پر پوری اترتی ہیں۔

میں نے آج سے بیس سال پہلے اپنے بچوں کے لئے جو کھلونے انگلینڈ میں خریدے تھے ان سے ہمارے خاندان کے سب بچے کھیل چکے ہیں لیکن اب بھی اسی طرح سلامت ہیں۔ معیار سے کم اشیاء بنانے میں ہمارے اپنے تاجروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔کچھ اس طرح سے کاروبار ہوتا ہے کہ ہمارا بزنس مین فیکٹری میں جاتا ہے اور کسی شے کی قیمت پوچھتا ہے۔ فرض کریں اسے قیمت بتائی جاتی ہے دس ڈالر۔ وہ آگے سے کہتا ہے کہ یہ تو بہت مہنگا ہے۔ فیکٹری والا پوچھتا ہے کہ آپ کو کتنے والا چاہئی؟ تو ہمارا بزنس مین ایک ڈالر بتاتا ہے۔ فیکٹری اسے وہی ایک ڈالر والے معیار میں بنا کر دے دیتی ہے۔ یہی شے ہمارے ملک میں لاکر ہماری بزنس کمیونٹی اگر اسے دس بیس گنا زیادہ قیمت پر نہیں تو کم از کم پانچ سو فیصد منافع پر بیچ دیتی ہے۔

ایک اور پہلو جس پر کم ہی لوگوں کی نظر پڑتی ہے وہ ہے ڈمپنگ (umping)۔ ہوتا یوں ہے کہ اگر کسی فیکٹری کو ایک پیٹنٹ شے کے لاکھوں میں بنانے کا آرڈر مل جاتا ہے تو وہ اسے دگنی تعداد میں بنا لیتی ہے۔ اس میں کچھ تو خریدار مسترد کردیتا ہے۔ تاہم اس پر لاگت اتنی کم آتی ہے کہ آدھا مال بیچنے پر بھی فیکٹری کو تمام مال کی نہ صرف قیمت مل جاتی ہے بلکہ کئی گنا منافع بھی۔ اب اس کے پاس جو مال رہ جاتا ہے وہ کوئی قیمت نہیں رکھتا۔ تاہم ضائع کرنے کی بجائے وہ مال کسی ہمسایہ ملک میں بھیج دیا جاتا ہے اور اس پر اپنی لاگت سے بھی کم قیمت لگائی جاتی ہے۔ اب اس کا مقابلہ اس ملک کی صنعت نہیں کرسکتی چنانچہ وہ کارخانے بند ہوجاتے ہیں۔ جب وہ صنعت مکمل طور پر بیٹھ جاتی ہے تو پھر چین اپنے مال کی قیمت بڑھانا شروع کردیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں کوریا نے اپنا ایک سٹینڈرڈ بنایا ہوا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ جب وہ مینوفیکچرنگ کی دنیا میں ابھرنے لگاتو حکومت نے مختلف صنعتوں میں معیار کا مقابلہ کروایا۔ جو اشیاء پہلے نمبر پر پہنچیں تو اسے کوریا کا معیار قرار دیا۔ اس طرح سے یورپین کمیونٹی اور امریکی سٹینڈرڈ سے بھی کورین سٹینڈرڈ زیادہ دیر پا ہوتا ہے۔ ہماری حکومت کے بھی سٹینڈرڈ کا ایک الگ ادارہ ہے۔ تاہم اس کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ورنہ جس قسم کا معیاری سامان یہاں بن سکتا ہے وہ دنیا میں کسی بھی جگہ مقابلہ کرسکتا ہے۔ تاہم ان کی نگرانی کرنے کا صرف ایک ہی ذریعہ موجود ہے اور وہ ہے برآمد کنندہ کا معیار۔ خریدار اپنا سٹینڈرڈ ہر حال میں برقرار رکھتا ہے۔ تاہم ابھی حال ہی میں میں نے جو تھوڑی بہت خریداری برطانیہ میں کی تو ان کی ناپائیداری سے مجھے بہت مایوسی ہوئی لیکن یہ سارا مال انڈیا، بنگلہ دیش ، انڈونیشیااور سری لنکا کا بنا ہوا تھا۔ اس کے مقابلے میں اب پاکستانی مال بھی برطانوی اور امریکی مارکیٹ میں اپنی کافی ساکھ رکھتا ہے

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo