شیخ سعدی اور ایک ریٹیلر کا عجیب و غریب قصہ

شیخ سعدی کا اصل نام مشرف الدین بن مصلح الدین عبداللہ تھا۔ آپ شیراز، ایران میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سال پیدائش 1184ء اور وفات 1291ء ہے۔ شیخ سعدی کے والد گرامی جیسا کہ شیخ  کے کلام سے معلوم ہوتا ہے، ایک با خدا اور متورع آدمی تھے۔ شیخ کے بچپن کا حال اس سے زیادہ نہیں کہ نماز روزے کے مسائل انھیں بہت چھوٹی عمر میں یاد کرائے گئے تھے اور بچپن ہی میں نھیں عبادت، شب بیداری اور تلاوت قرآن مجید کا کمال شوق تھا۔ عید اور تہواروں میں ہمیشہ باپ کے ہمراہ رہتے اور کبھی آوارگی کا شکار نہیں ہوئے۔والد صاحب اپنے بیٹیکے افعال و اقوال کی نگرانی عام باپوں کی نسبت بہت زیادہ کرتے تھے  اور بے موقع بولنے پر زجر و توبیخ کرتے تھے۔ شیخ نے اپنی تربیت کا بڑا سبب والدگرامیکی تادیب اور زجر و توبیخ کو قرار دیا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت سے ملکوں کا سفر کیا اور اسی دوران بہت سی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان میں گلستانِ سعدی اور بوستانِ سعدی مشہور اور مقبول ہیں۔ یہ دونوں کتابیں دانش سے بھرپور ہیں اور زندگی میں بڑی کامیابیوں کے حصول کی کلید ثابت ہوتی ہیں۔

شیخ سعدی فرماتے ہیں:

”میں ایک طویل سفر پر تھا۔ راستے میں ایک تاجر دوست کے ہاں رات گزارنے کے لیے ٹھہرا۔ اس نے رات بھر مجھے سونے نہ دیا۔ اپنی تجارت کے قصے کہانیاں سناتا رہا۔ جب سب ایران توران کی سنا چکا تو آخر میں کہنے لگا:

”میری تجارت پروان چڑھ گئی اور میری سب آرزوئیں پوری ہو گئیں۔ اب صرف ایک آخری سفر کرنے کا ارادہ ہے۔“ شیخ سعدی رحمہ اللہ نے پوچھا:”اور وہ کیا؟“

کہنے لگا: ”میں یہاں سے فارسی گندھک لے کر چین جاؤں گا، پھر چین سے برتن خرید کر روم میں جا فروخت کروں گا۔ وہاں سے رومی کپڑے لا کر ہندوستان پہنچوں گااور ہندوستان سے فولاد خرید کر شام آؤں گا۔ شام سے شیشہ لا کر یمن میں فروخت کروں گا۔ وہاں سے یمنی چادریں لے کر واپس فارس آجاؤں گا۔“

شیخ سعدی نے اس کے چہرے کو دیکھا جہاں طویل عزائم اور بے حساب لالچ کی کئی ایک لکیریں نمودار ہو چکی تھیں۔اس نے ایک ہی سانس میں پوری دنیا کا ”بس آخری“ سفر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ شیخ سعدی نے پوچھا: ”اچھا،پھر کیا کرو گے؟“ اس نے اطمینان کا ایک لمبا سانس لیا اور کہا: ”بس اس ایک سفر کے بعد میں ”قناعت“ سے اپنی’دکان‘ پر بقیہ زندگی گزاردوں گا۔ آپ اس سب کی خیرو خوبی کے لیے دعا کر دیجیے۔“

گلستان سعدی نامی کتاب میں یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد شیخ سعدی نے بس اتنا کہاہے: ”دنیا دار کی تنگ نگاہ کو یا تو قناعت پْر کر سکتی ہے یا قبر کی مٹی اس کا علاج ہے، تیسرا راستہ کوئی نہیں۔‘

ایک اورجگہ شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ایک دن جوانی کے نشے میں،میں نے سفر میں بڑی تیزی دکھائی اور تھک ہار کر رات کے وقت ایک ٹیلے کے دامن میں جا لیٹا۔ ایک بوڑھا ضعیف جو قافلے کے پیچھے پیچھے آرہا تھا، کہنے لگا: بیٹھے کا ہے کو ہو، میاں یہ بھی کوئی سونے کی جگہ ہے!!! میں نے کہا چلوں تو کیسے، مجھ میں دم نہیں۔ بوڑھے نے کہا: کیا تم نے داناؤں کا قول نہیں سنا کہ آہستہ چلنا اور کبھی کبھار دم بھر کے لیے سستانا، بھاگنے اور تھک ہار کر بیٹھ جانے سے ہزار درجے بہتر ہے۔

شیخ سعدی سے کسی نے بچوں کی تربیت کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے جو جملے کہے وہ چاندی کے پانی سے سونے کی تختی پر لکھنے کے قابل ہیں۔ آپ نے فرمایا:

  • جس بچے کی عمر10 سال سے زیادہ ہو جائے، اسے نا محرموں اور ایروں، غیروں میں نہ بیٹھنے دو۔ ٭ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا نام باقی رہے تو اولاد کو اچھے اخلاق کی تعلیم دے۔ ٭ اگر تجھے بچے سے محبت ہے تو اس سے زیادہ لاڈ پیار نہ کر۔
  • بچے کو استاد کا ادب سکھاؤ اور استاد کی سختی سہنے کی عادت ڈالو۔
  • بچے کی تمام ضروریات خود پوری کرو اور اسے ایسے عمدہ طریقے سے رکھو کہ وہ دوسروں کی طرف نہ دیکھے۔
  • شروع شروع میں پڑھاتے وقت بچے کی تعریف اورشاباش سے اس کی حوصلہ افزائی کرو۔ جب وہ اس طرف راغب ہو جائے تو اْسے اچھے اور برے کی تمیز سکھانے کی کوشش کرو اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کرو۔
  • بچے کو دستکاری یعنی ہنر سکھاؤ۔ اگر وہ ہنر مند ہو گا تو برے دنوں میں بھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے ہنر سے کام لے گا۔
  • بچوں پر کڑی نظر رکھو تا کہ وہ بروں کی صحبت میں نہ بیٹھیں۔

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo