ایک باہمت خاتون کا ڈھابا

محمدعمر

فیصل آباد میں گٹ والا وائلڈ لائف پارک کے قریبی علاقے شیریں والا کے مرکزی چوک سے ملحقہ ایک گلی میں اکتیس سالہ آسیہ پروین تندور پر روٹیاں لگانے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف اُن کے شوہر سرفراز ڈھابے پر آئے گاہکوں کے لیے سالن اور روٹیوں کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ آسیہ نے یہ ڈھابہ لگ بھگ چودہ برس قبل بنایا تھا اور آج وہ اپنی کامیابی کے باعث اُن خواتین کے لیے مشعلِ راہ بن گئی ہی جو زندگی میں خود مختاری کے ساتھ کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ اگرچہ دیکھنے میں اُن کا یہ کاروبار چھوٹا محسوس ہوتا ہے مگر یہ اُن سمیت اُن کے پانچ بچوں اور شوہر کی کفالت کا واحد ذریعہ ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ‘میں جب 15 سال کی ہوئی تو میرے والدین نے میری شادی کر دی۔ اس وقت میرا خاوند ایک چھوٹی سی دکان پر خراد کا کام کیا کرتا تھا مگر اُن کی مزدوری میں گھر کے اخراجات پورے ہونا تو درکنار دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ممکن نہیں تھا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے جیون ساتھی کا سہارا بننے کا فیصلہ کیا۔’

آسیہ کے بقول پہلے انھوں نے گھروں کی صفائی کے ساتھ ساتھ موتی، کروشیے اور رضائیوں کی سلائی وغیرہ کا کام شروع کیا تاہم اس سے بھی حالات میں کچھ بہتری نہیں آئی۔

‘میں کھانا اچھا بنا لیتی تھی لہذا میں نے سرفراز سے مشورہ کیا کہ کیوں نہ ہم ایک چھوٹا سا ہوٹل کھول لیں جہاں میں اپنے ہاتھ سے سالن اور روٹیاں بنا کر فروخت کروں گی تو وہ فوری رضا مند ہو گئے مگر مسئلہ یہ تھا کہ ہوٹل کیسے بنایا جائے، پیسے کہاں سے آئیں گے؟’

انھوں نے مزید بتایا کہ ‘ہم نے رشتے داروں سے اُدھار لینے کی کوشش کی مگر کسی نے ہامی نہ بھری۔ میری والدہ نے مجھے کہا کہ اگر تیرا خاوند تیرا خرچہ نہیں اٹھا سکتا تو تم طلاق لے لو میں تمہاری دوسری شادی کر دوں گی لیکن اگر تم نے ہوٹل بنا کر اس میں کام کیا تو میں ساری زندگی تمہارا منہ نہیں دیکھوں گی تاہم میں اپنا فیصلہ کر چُکی تھی۔’

اُن کے مطابق انھوں نے عورتوں کی معاشی مدد کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سے 50 ہزار روپے قرض حسنہ لیا اور ایک دکان کرائے پر لے کر تندور لگایا اور اسے خود چلانا شروع کیا۔

‘میں نے اپنا قرض صرف 6 ماہ کے عرصے میں اُتار دیا، وہ دن جائے اور آج کا آئے ہمیں گھر میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ جب میں نے کام شروع کیا تو میں چھوٹی سی بچی تھی لیکن آج میرے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ اب میں نے اپنے کام کا دائرہ کار بھی وسیع کر لیا ہے۔

آسیہ کے ڈھابے پر سادہ روٹی اور گھر کے سالن کے ساتھ بیسن والی روٹی، سادہ پراٹھا، میٹھا پراٹھا، خالص مکھن، اچار اور چاٹی کی لسی بھی دستیاب ہے اور پاس موجود گٹ والا پارک میں تفریح کے لیے آئی کئی فیملیاں اُن سے آرڈر پر کھانا تیار کرواتی ہیں۔

اُن کے مطابق وہ یومیہ ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے باآسانی کما لیتی ہیں جن سے اُن کا اچھا گزارہ ہو جاتا ہے۔

آسیہ بتاتی ہیں کہ شروع کے چند سالوں میں کھانا کھانے آئے کئی لوگ ان پر طعنے کستے تھے اور مرد غلط اشارے کرتے تھے۔ 

‘میرا مقابلہ ناصرف اپنی مفلسی کے ساتھ تھا بلکہ میرے مدمقابل وہ تمام مرد تھے جو عورت کو صنف نازک اور کمزور سمجھتے ہوئے اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے کیے جانے والے سوال میں انھوں نے کہا کہ فی الحال وہ اپنے کام سے مطمئن ہیں اور باعزت طریقے سے اپنا روزگار چلا رہی ہیں تاہم اب وہ فیصل آباد اور اس کے گردوں نواح میں لگنے والے میلوں میں بھی ساگ مکئی کی روٹی اور چاٹی کی لسی کا سٹال بھی لگایا کریں گی۔ 

اُن کے بقول اگر ان کے پاس وسائل ہوں تو وہ اپنے کام کو کسی بہتر مقام پر منتقل کر کے کھانے کے معیار اور ماحول کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے منصوبہ بندی بھی کر رکھی ہے کہ جیسے ہی مالی حالت مزید بہتر ہو گی وہ اس کام کو بڑے پیمانے پر شروع کریں گی۔ 

آسیہ کے خاوند محمد سرفراز کا کہنا تھا کہ آسیہ اچھی شریک حیات ہونے کے ساتھ ساتھ ایک محنتی خاتون ہے جس نے اُن کے گھر کو جنت بنا دیا ہے۔

‘آج اگر آسیہ نہ ہوتی تو میرا کوئی خاندان نہ ہوتا اور نہ ہی میرے سر پر چھت ہوتی۔ یہ سب آسیہ کی ہی محنت کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔’

عورتوں کو اپنا پیغام دیتے ہوئے آسیہ نے کہا کہ ‘ہمارے معاشرے میں بعض کاموں کو صرف مردوں کے ساتھ ہی منسوب کیا جاتا ہے لیکن اگر خواتین چاہیں تو وہ کوئی بھی کام کو کر کے یہ ثابت کر سکتی ہیں کہ وہ کسی بھی طرح مردوں سے کم ہمت والی نہیں ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ ہمت ہارنے کی بجائے آگے بڑھیں اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔’

 

 

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo