انتخاب: وقار احمد
دین اسلام کامل مکمل نظام حیات ہے جس میں ہر شعبہ زندگی کی واضح رہنمائی موجود ہے، عارف باللہ مرشدی حضرت واصف منظور صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ دین پانچ چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے جس میں ایمانیات، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات ہیں۔
اکابر فرماتے ہیں کہ دین کی بنیاد ایمانیات پر ہے، ایمانیات میں روح عبادات سے ہے، عبادات کی مقبولیت حسن معاملات سے ہے، معاملات میں خوبی حسن معاشرت سے ہے، معاشرت میں نکھار حسن اخلاق سے ہے، امت کے ان پانچوں شعبوں میں دین کو زندہ کرنے کی فکر کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔
اشیاء کی خریدو فروخت ہر دور میں انسانی ضرورت رہی ہے اور کبھی انسان کو اس سے استغناء نہیں، حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل تاجروں کو اچھے نام سے نہیں پکارا جاتا تھا، آپ ﷺ نے تاجروں کو عزت بھرا نام دیا اور ’یا معشر التجار‘ کہہ کر تاجروں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
حضرت قیس بن غرزہ (جو سوداگری کرتے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں ہم لوگوں کو یعنی سودا گروں کو سماسرہ کہا جاتا تھا، چنانچہ ایک دن کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کا گزر ہماری طرف ہوا تو آپ ﷺ نے ہمارے طبقے کا ایک ایسا نام عطا کیا جو ہمارے پہلے نام سے کہیں بہتر ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (یا معشر التجار) اے طبقہ تجار! تجارت میں اکثر بے فائدہ باتیں اور بہت زیادہ قسم یا کبھی کبھی جھوٹی قسم کھانے کی صورتیں پیش آتی رہتی ہیں، اس لئے تم تجارت کو صدقہ وخیرات کے ساتھ ملائے رکھو (ابوداؤد ترمذی)
سماسرہ دراصل لفظ سمسار کے جمع کا صیغہ ہے جس کے معنی دلال یا کسی چیز کا مالک و منتظم ہونے کے ہیں، چنانچہ پہلے زمانے میں تجارتی کاروبار کرنے والے کو سمسار ہی کہتے ہیں۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو اس سے بہتر نام یعنی تجار (جو کہ لفظ تاجر کی جمع کا صیغہ ہے) عطاء کیا، اس نام کے بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خرید وفروخت کے کاروبار کو مدحیہ طور پر لفظ تجارت کے ساتھ ذکر کیا ہے جیسے ایک آیت کی عبارت کا یہ ٹکڑا ہے:
کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے۔ (الصف: 10)
ایک اور آیت میں ہے کہ (تجارۃ عن تراض) (سوداگری آپس کی رضا مندی سے ہو)
ایک آیت کے یہ الفاظ (تجارۃ لن تبور) (تجارت کرو ہلاکت میں نہ پڑو)
’تجارت کو صدقہ وخیرات کے ساتھ ملائے رکھو‘ کا مطلب یہ ہے کہ تجارتی زندگی میں عام طور پر بے فائدہ باتیں اور جھوٹی سچی قسموں کا صدور ہوتا رہتا ہے اور یہ دونوں ہی چیزیں پروردگار کے غضب وغصہ کا باعث ہیں، اس لئے تم ان دونوں چیزوں کے کفارہ کے طور پر اپنا کچھ مال صدقہ وخیرات کرتے رہا کرو کیونکہ صدقہ وخیرات اللہ تعالیٰ کے غضب وغصہ کو دور کرتا ہے۔
