امتیاز سپرمارکیٹ نے کراچی اور گوجرانوالہ کے بعد اب فیصل آباد میں بھی قدم رکھ دیاہے۔ نشاط آباد شیخوپورہ روڈ پر واقع اس سٹور میں صبح دس بجے سے رات بارہ بجے تک کاروبار ہوتاہے۔ امتیاز سپرمارکیٹ، پاکستان کی سب سے بڑی پانچ سپر مارکیٹوں میں سے ایک 1995ء میں سپرمارکیٹ بنی۔ پہلے ایک چھوٹی سی دکان تھی جو والد حکیم خان عباسی چلاتے تھے بہادر آباد کراچی میں اوسطاً تین ہزار روپے آمدن ہوتی تھی۔ پورے دن میں 50،0گاہک ہی آتے تھے۔ امتیاز حسین عباسی نے لڑکپن ہی میں والد کے ساتھ دکان پر ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ پھر وہ سنگاپور چلے گئی، وہاں’ مصطفیٰ سپر سٹور‘ دیکھا۔ذہن بنایا کہ پاکستان جاکر اپنی دکان کو ایسا ہی سپرسٹور بنائوں گا، اپنے برانڈز بھی تیار کروں گا۔
پونم کے نام سے ایک برانڈ تیار کیا،چاول، دال ، مصالحے اپنے مطلوبہ معیار کے مطابق پونم برانڈ بہت مقبول ہوا،پھر ضرورت محسوس ہوئی کہ چاولوں کی پروسیسنگ خود کرنی چاہئے۔997ء میں پروسیسنگ یونٹ کورنگی کراچی میں قائم کرلیا۔ایک کے بعد دوسرا سٹور کھلا تو امتیاز حسین عباسی کے لئے اکیلے کاروبار سنبھالنا مشکل محسوس ہونے لگا۔اب انھوں نے اپنے بیٹوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ بڑے بیٹے عمر امتیاز نی002ء میں بہادر آباد والی مین برانچ سنبھال لی۔دوسرے بیٹے کاشف امتیاز نی003ء میں شارع فیصل پر واقع ’امتیاز ٹو‘ میں کام شروع کردیا۔دونوں بھائیوں نے کاروبار میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے بزنس کو ایک نیا انداز بخشا۔ 2008ء میں ہوم ڈیلیوری کا آغاز کردیا۔کال سنٹر کھول دیا، اگرچہ امتیاز سپر مارکیٹ نے اپنے خریداروں کو فون، فیکس اور ای میل کے ذریعے آرڈر دینے کی سہولت فراہم کردی تھی لیکن کسٹمرز مارکیٹ آکر ہی خریداری کرنا پسند کرتے تھے۔ فیصل آباد میں کھلنے والی امتیاز سپرمارکیٹ میں بھی یہی حال ہے۔ لوگ بالخصوص فیملیز جوق در جوق امتیاز سپرمارکیٹ میں آتے ہیں
