الفتح سٹور

گلبرگ کے ایک چھوٹے سٹور سے شروع ہونے والی کامیابی کی داستان  جو  ملک کے دیگرشہروں  تک دراز ہوگئیگلبرگ کے ایک چھوٹے سٹور سے شروع ہونے والی کامیابی کی داستان  جو  ملک کے دیگرشہروں  تک دراز ہوگئی

محمد اعجازتنویر

سوال تھا کہ آخر وہ کون سے راز ہیں جو آپ کے چھوٹے سے کاروبار کو  عظیم الشان کامیابی میں بدل دیں،ایک عقل مند نے کہاکہ عمل ہی تمام کامیابیوں کی اصل چابی ہی، دوسرے نے کہاکہ ہمیشہ بلندفکر رہئیی، کیونکہ زندگی معمولی باتیں سوچنے کے لئے نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ان لوگوں کی ایک نہ سنو جو کہتے ہیں کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے۔  تیسرے دانا نے کہا کہ کامیابی کے کوئی رازنہیں ہوتی، بس! یہ تیاری، سخت محنت اور ناکامیوں سے سیکھنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ چوتھے نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے گزرے ہوئے کل کو تبدیل نہیں کرسکتا لیکن آنے والے کل کو ضرور سنوارسکتاہے۔کسی نے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے اندرکامیابی کی خواہش ناکامی کے ڈر سے کہیں بڑی ہو۔دنیا میں جس نے بھی کامیابی کے یہ راز پائی، اس کی نسلیں بھی کامرانی کے افق پر چمکتی رہیں۔ دور کیوں جائیں، اپنے پاکستان ہی کے ایک خاندان کا ذکر کرتے ہیں۔ اللہ بخش مٹو کا خاندان 18ویں صدی  میں کشمیر سے لاہور منتقل ہوااور اس نے یہاں کاروبار شروع کیا۔ ان کے دو بیٹے تھی، شیخ محمد علی مٹو اور  شیخ بسا مٹو۔ انھوں نے اندرون لاہوری گیٹ میں مغل بادشاہوں کی اناج منڈی میں اناج کا کاروبار شروع کیا۔ یہ کاروبار آج بھی اسی جگہ پر جاری ہے۔

شیخ محمد علی مٹو اور  شیخ بسا مٹو نے 1905ء میں  ٹولنٹن مارکیٹ جو انگریز فیملیز کے لئے شاپنگ سنٹر تھا، میں 15کے قریب دکانیں کرایہ پر لیں اور پھر یہاں سبزی، پھل فروٹ اور گوشت کا کاروبار شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے شیخ محمد علی کو سات بیٹوں سے نوازا۔ ان میں سے چار اوائل عمری میں انتقال کرگئے تھے۔جبکہ باقی بیٹے حاجی شیخ طالب علی، حاجی شیخ برکت علی اور حاجی شیخ مبارک علی نے اپنے والدمحترم سے کاروبار کی تربیت اور مہارت حاصل کی۔ تربیت اور ٹریننگ کا یہ سفر935ء تک جاری رہا جب حاجی شیخ محمد علی خالق حقیقی سے جاملے۔ شیخ مبارک علی نے اپنے والد کے کاروبار کو آگے بڑھایا۔ حاجی صاحب نے اپنے کاروبار میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتے ہوئی947ء میں الحمرا سٹور کی بنیاد رکھی۔ خاندان کی کاروباری ٹیم کی قیادت حاجی مبارک علی کے ہاتھ ہی میں تھی۔جبکہ ان کے ساتھ حاجی شیخ طالب علی اور حاجی شیخ برکت علی تھے۔پہلے ان کا کاروبار کریانہ سٹور کی صورت میں چل رہاتھا لیکن اب یہی سٹور ایک مکمل فوڈ سٹور میں تبدیل ہوگیاتھا۔ اس میں امپورٹڈ اور لوکل سٹف رکھاگیاتھا۔ جوں جوں ان کے کاروبار نے پائوں پھیلائی، شیخ طالب علی کے پانچ فرزند شیخ اللہ جوایہ، حاجی اللہ دتہ، حاجی اقبال علی اور شیخ ولایت علی نے بھی اپنے بڑوں کا ہاتھ بٹایا، خوب محنت کی اور کاروبار کو مضبوط ومستحکم کیا۔

کہانی آگے بڑھتی ہی، شیخ اقبال علی اس کہانی کے ایک اہم کردار کے طورپر ابھرتے ہیں۔ انھوں نی941ء میں فتح کے جس کا آغازکیاتھا ، وہ اب بھی جاری ہے ، انھوں نی4برس قبل لاہور کے علاقہ گلبرگ میں ’الفتح سٹور‘ سے آغاز کیاتاہم اب یہ کہانی ڈیفنس لاہور اور فیصل آباد اس کے سنگ ہائے میل عبور کرتے ہوئے اب گلبرگ لاہور ہی کے علاقے حسین چوک میں ’الفتح پریمیم مال‘  تک پہنچ گئی ہے۔ عرفان اقبال شیخ  اور انیس اقبال شیخ  ہی اس کے روح رواں ہیں۔ ان کے ایک بیٹے جمشید اقبال نے آرمی جوائن کی تھی، سیکنڈ لیفٹیننٹ کے درجہ پر کام کررہے تھے کہ استعفیٰ دے کر ’الفتح الیکٹرونکس‘ کے نام سے لاہور  کی معروف عابد مارکیٹ میں کاروبار شروع کرلیا، اور پھر کامیابی کی عظیم داستان رقم کی۔ کامیابی کا یہ سفر جاری ہے۔ فاتح اپنا کاروبارپھیلانے کے لئے اسلام آباد اور کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

زندگی کے کسی بھی شعبے میں ترقی کی منازل طے کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اس شعبے کی تاریخ سے بخوبی آگاہ ہو۔ دراصل ترقی کا سفر مرحلہ وار اور بتدریج طے ہوتا ہے ۔ کسی بھی اونچے مقام پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ بلندی کو بتدریج طے کیا جائے ۔ یہ سفر کسی پہاڑی کا ہو یا پھر کسی بلند و بالا عمارت کا ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انسان ایک ہی جست میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا ہو اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی فرد سیڑھیوں کو نظر  انداز کر کے اچھل کر عمارت کی چھت پر پہنچ گیا ہو ۔ جب انسان نے بلندی کا سفر طے کرنا سیکھا ہو گا تو اس کے سامنے ماضی کے تجربات بھی تھے۔ کوئی انداز اختیار کر کے وہ گرا ہو گا لیکن پھر گرتے گرتے  وہ سب کچھ سیکھ گیا جس نے اسے بلندی اور رفعت سے ہمکنار کیا۔

اس فلسفے کا اطلاق زندگی کے کسی بھی شعبے حتیٰ کہ تجارت پر بھی کیا جا سکتا ہے ۔ دنیا کا پہلا تاجر جن تجربات سے گزرا ، آج کا تاجر ان تجربات سے سبق سیکھ لے تو اسے ان تجربات سے گزرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے معلوم ہے کہ کیا کچھ کاروبار میں اس کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے اور کیاکچھ اسے کامیابی و کامرانی سے سرفراز کر سکتاہے۔ کامیابی اور ناکامی ، دونوں کا صحیح تجزیہ کر لیا جائے تو وہ انسان کیلئے مشعل راہ ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ تجربات کرنے سے صرف اس لئے ڈرتے ہیں کہ انہیں ناکامی کا شکار نہ ہونا پڑے انہیں کبھی کامیابی نہیں ملتی۔ وہ پوری کو شش کے با وجود تاریخ کے اوراق میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب نہیں ہو تے۔

حاجی اللہ بخش کے بیٹے محمد علی تھے ۔ ان کے بیٹے طالب علی تھے اور ان کے بیٹے حاجی اقبال مر حوم تھے ۔ وہ نہایت شریف النفس انسان تھے۔ محض باتیں کرنا  انہیں سخت نا پسند تھا ۔ اسی وجہ سے وہ اپنے کام کو مکمل یکسوئی سے کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ طالب علم تھے تو پڑھائی کو سب سے پہلی ترجیح سمجھتے تھے۔  کتابوں کا مطالعہ ہی ان کا بہترین مشغلہ تھا ۔ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی ان کی خواہش یوں پوری ہوئی کہ  ڈاکٹر جاوید اقبال اور ڈاکٹر آفتاب اقبال نے ایم بی بی ایس کی ڈگریاں حا صل کیں، وہ اب بھی اپنے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حا صل کرنے کے بعد وہاں خدمات انجام دے رہے تھے کہ قطری حکومت نے انہیں خصوصی طور پر اپنے ملک بلا کر اہم ذمہ داریاں سونپ دیں ۔ اسی طرح ان کے تیسرے بیٹے جمشید اقبال نے پاک فوج جوائن کی لیکن وہ زیادہ عرصہ وہاں نہ ٹھہر سکے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے کہ استعفیٰ دے کر الیکٹرانکس کے کاروبار میں قدم رکھا ۔ وہ آج بھی ’’الفتح الیکٹرانکس ‘‘ کے نام سے لاہور کی معروف عابد مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں ۔ عرفان اقبال اور شیخ انیس اقبال ٹولٹن مارکیٹ ہی میں الفتح سٹور چلا رہے ہیں ۔ الفتح سٹور کو ریٹیل بزنس میں ’’سٹیٹ آف آرٹ‘‘ سٹور کی حیثیت حاصل ہے ۔

کسٹمرکیئر اور پراڈکٹس کی وسیع رینج کی مسلسل فراہمی ہی نے اس سٹور کو دوسرے تمام سٹورز سے ممتاز رکھا۔ محنت ، مزاجی اور سادگی کی تصویر حا جی اقبال شیخ جدو جہد کے اس سفر میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اپنی شاندار خصوصیات کی بنا پر وہ کسٹمر کے اعتمادکو نہ صرف قائم رکھتے ہیں بلکہ اسے مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ کسٹمرز کی محبت اور طلب کو محسوس کرتے ہوئے جناب عرفان اقبال شیخ اور انیس اقبال شیخ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سٹیٹ آف آرٹ پرا جیکٹ کو مزید بڑھایا جائے۔ وہ اس پلاننگ میں لگے ہوئے ہیں کہ کسٹمر کی ضروریات اور پسند کی اشیا اس کے گھر کے قریب تک پہنچادی جائیں ۔ جب پاکستان میں ملٹی نیشنل سٹورز کھل رہے تھی، مقامی  لوگوں کا پاکستان کے رٹیل بزنس میں آنا یقینا یہاں کے نئے کاروباری حضرات کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ اب یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان کے لوگ بھی کاروبارکو بڑے پیمانے پر پھیلانے میںکامیاب ہوسکتے ہیں۔ عرفان اقبال شیخ  کی دنیا صرف بزنس کی دنیا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وقت کو اس طرح مینیج کرتے ہیں کہ کاروبار کے علاوہ کمیونٹی کو بھی بھرپور وقت دیتے ہیں ۔ انجمن تاجران کا فورم ہو یا پھر چیمبر آف کامرس، ہر فورم پر وہ نمایاں نظرآتے ہیں۔ان کے بھائی انیس اقبال بھی پاکستان ریٹیل بزنس کے اہم اور تجربہ کار کھلاڑی بن چکے ہیں ۔ کامیابی کی یہ داستانیں پاکستان میں ریٹیل بزنس کے طلبا وطالبات کیلئے روشن مثالیں ہیں۔  

GET THE BEST DEALS IN YOUR INBOX

Don't worry we don't spam

Retailer Pakistani
Logo