155 کارفور اور ماجد الفتیم گروپ لاہور اور کراچی میں مزید دوہائپرمارکیٹیں کھولے گا
’ہائپرسٹار‘ پاکستان کا سب سے زیادہ متحرک، سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی ہائپرمارکیٹ چین ہے۔پاکستان میں اس کا پہلا سٹور لاہور میں فورٹریس سٹیڈیم کے بالکل ساتھ ہی کھلا۔یہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ریٹیل گروپ ’’کارفور‘‘کا اپنے مشرق وسطیٰ کے پارٹنر ماجد الفتیم گروپ کے ساتھ مشترکہ ایڈونچر تھا، اس کمپنی نے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں پہلی ہائپر مارکیٹ کھولنے کے بعد کامیابی کی اگلی کہانی کراچی میں رقم کی، اب اسلام آباد میں قدم رکھا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کراچی اور لاہور میں مزید ایک ایک سٹور کھولا جائے گا۔
عالمی سطح پرریٹیل بزنس کاوسیع و عریض تجربہ رکھنے والی یہ کمپنی پاکستانیوں کو بھی وہی معیار فراہم کررہی ہے جو دنیا کے باقی ممالک کے لوگوں کو دے رہی ہے۔کارفور فرنچ انٹرنیشنل ہائپر مارکیٹ چین ہے جس کا نیٹ ورک پوری دنیا میں موجود ہے۔فرانسیسی زبان میں ’کارفور‘ کے معنی جنکشن کے ہیں۔ ریونیو کے اعتبار سے یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ریٹیل گروپ ہے۔ یادرہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ریٹیل گروپ ’وال مارٹ‘ ہے۔کارفور کی مارکیٹیں یورپ، برازیل، ارجنٹائن، ڈومینیکن ریپبلک اور کولمبیا میں ہیں۔اس طرح اس کے سٹور شمالی افریقہ اور ایشیا میں بھی کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔
کارفور کے بانی مارشل فورنئیر اور ڈینس ڈیوفری کے خاندان والے تھے۔انھوں نے اس منصوبے کا آغاز1959ء میں کیا اور پہلا سٹور فرانس کے شہر انیسی میں کھولا۔آج پوری دنیا میں کارفور کے سٹوروں میں سب سے چھوٹا انیسی ہی کا ہے۔بعدازاں ان دونوں خاندانوں نے اپنے کاروبار کو سٹورز کی چین میں بدل ڈالا۔ان دونوں پارٹنرز کی شہرت چار دانگ عالم پھیل گئی۔ چنانچہ انھیں امریکہ میں منعقدہ مختلف کاروباری سیمیناروں میں لیکچرز دینے کی دعوت دی جانے لگی۔ ان کی مہارت اور قابلیت کا اعتراف امریکہ میں جدید ڈسٹری بیوشن کے بانی برنارڈ وترو جیلو نے بھی کیا۔
کارفور کے بانیوں نے دنیا میں پہلی بار ہائپرمارکیٹ کا تصور متعارف کرایا یعنی ایک بڑی سپرمارکیٹ اور ایک ہی چھت کے نیچے ایک بڑا ڈیپارٹمنٹل سٹور۔انھوں نے پہلی ہائپر مارکیٹ15جون1963ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ایک نزدیکی مقام سینٹ جنیوا دی بائس میں کھولی۔ اپریل 1976ء میں انھوں نے ایک نئی سکیم شروع کی جس کے تحت کھانے پینے کی 50اشیاء انتہائی سستی قیمت پر فراہم کرنا شروع کردیں۔ ان میں تیل، بسکٹ، دودھ اور پستہ وغیرہ شامل تھے۔ یہ سکیم اس قدر مقبول ہوئی کہ اس پر بعض سیاسی حلقوں میں بھی بہت زیادہ تنقید کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارفور اپنی سکیم کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے اور ایک سوشلسٹ حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کررہا ہے۔
کارفور نے اپنے پورے بزنس میں جو نعرے متعارف کرائے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا: ہرفرد کے لئے کوالٹی اور چوائس۔ اسی طرح ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ کم قیمت اشیا اور وہ بھی آپ کے گھر سے بہت قریب۔ ایک نعرہ یہ بھی تھا: آپ جو بھی چاہیں گے وہ آپ کو گھر سے قریب تر ملے گا۔
U3 گروپ کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ گزشتہ 40برسوں سے کارفور دنیا کے سب سے بڑے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں سے ایک ہے۔ دنیا کے دوسرے بڑے اور یورپ کے سب سے بڑے ری ٹیل گروپ کی حیثیت سے اس کے پوری دنیا میں 15ہزار سے زائد سٹور ہیں۔ان کی ہائپر مارکیٹیں اوسطاً 8400مربع میٹر پر محیط ہوتی ہیں۔ایک ہی چھت تلے 20ہزار سے 80ہزار غذائی اشیاء یا دیگر مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔ان میں سے ہر آئٹم اتنی سستی ہے کہ دنیا کے باقی سٹوروں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
کارفور کا اپنے پورے بزنس میں صرف ایک ہی چیز پر زور ہوتا ہے کہ صارفین کو سستی سے سستی اشیا فراہم کی جائیں۔اس گروپ کی کامیاب حکمت عملی کا یہی ایک لازمی جزو ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ مقامی لوگوں کی معاشی حالت کا بغور جائزہ لیتا ہے اور پھر ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایسی حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے کہ جو صارف اور خود اس کے اپنے مفاد میں ہو۔کارفور کی انتظامیہ ہر لمحہ اپنی پالیسی اور خدمات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ان ہائپر مارکیٹوں میں کمپیوٹر، موبائل فون اور کریڈٹ کارڈرز وغیرہ بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
کافور گروپ صارفین کو اپنی رہائش کے قریب ترین جگہ سے خریداری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ چاہے وہ شہر میں رہتے ہوں یاپھر شہر کے مضافات میں یاپھر کسی دیہاتی علاقے میں۔ اس کی سپرمارکیٹوں کا رقبہ اوسطاً ایک ہزار سے دو ہزار مربع میٹر تک ہوتا ہے۔ان مارکیٹوں میں دستیاب اشیا میں زیادہ تر غذائی ہوتی ہیں۔یہ اشیا بھی دیگر مارکیٹوں کی نسبت سستی فراہم کی جاتی ہیں۔ اب ان مارکیٹوں پر کپڑے سمیت دیگر سارا سازوسامان دستیاب ہوتا ہے۔
x2 گروپ کے قائم کردہ ہارڈ ڈسکاؤنٹ سٹورز میں ہر دوسرے سٹور کی نسبت 20فیصد کم نرخوں پر اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔یہ سٹور مختلف ناموں سے کاروبار کررہے ہیں۔یہ سٹورز اوسطاً 200سے1000مربع میٹر تک کے رقبہ پر محیط ہوتے ہیں۔یہاں سبزیاں اور پھل بلکہ گھر بھر کی ضرورت کی ہرچیز دستیاب ہوتی ہے۔یہاں مجموعی طورپر 1500سے1800اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔
( اسی طرح گروپ نے کنوئینس سٹورز بھی قائم کررکھے ہیں۔یہ بھی مختلف ناموں سے کاروبار کررہے ہیں۔یہاں ایسی اشیا فروخت ہوتی ہیں جو شہری اور دیہاتی، دونوں طبقات زندگی کی لازمی ضرورت ہوتی ہیں۔ان سٹوروں کو اس نعرے کے تحت چلایا جاتا ہے کہ آپ کوجوبھی چیز چاہئیے، وہ آپ کے دروازے کے نزدیک دستیاب ہے۔فرانس میں ان سٹوروں میں فوٹو ڈویلپمنٹ، ٹکٹ ڈسٹری بیوشن، فوٹو کاپی کی سروس، ٹکٹیں، ڈرائی کلیننگ اور اخبارات وغیرہ کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ ان سٹوروں میں سروس ایریا اوسطاً 50سے900مربع میٹر تک ہوتا ہے۔ سٹور ہوم ڈیلیوری کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔
G2 گروپ نے 1999ء سے ای کامرس بھی شروع کردی۔فرانس میں یہ سہولت بہت مقبول ہوئی ہے۔اس میں فوڈ پراڈکٹس فروخت ہوتی ہیں۔ اس کی فہرست میں قریباً1800اشیاء موجود ہوتی ہیں۔جن میں ڈی وی ڈیز، گیمز، سافٹ وئیرز اور کتابیں بھی شامل ہیں۔بس! ٓپ کو آرڈر دینا ہے اور پھر آپ کی مطلوبہ چیز آپ کے گھر تک پہنچ جائے گی۔
U1 کارفور گروپ کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ وہ سات اصولوں پر عمل کرنے کی وجہ سے کامیابی کا سفر وہ سات اصولوں پر عمل کرنے کی وجہ سے کامیابیوں کا تیز رفتار سفر جاری رکھے ہوئے ہیں:
)1 اول: وہ اپنے صارف کو اشیائے صرف کی ورائٹی فراہم کرتے ہیں اور پھر انتخاب کی آزادی دیتے ہیں۔وہ اپنی استطاعت کی بنیاد پر قیمت ادا کرکے چیز خریدتے ہیں۔
199 دوم: وہ اپنے صارفین، کمپنی ، ملازمین،اداروں اور ماحول کے حوالے سے پوری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
191 سوم:قدروقیمت کو صارفین، ملازمین، شئیرہولڈرز، پارٹنرز اور سپلائرز سب کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔
1751 چہارم:اپنے ملازمین ،سپلائرز اور صارفین ہر ایک کااحترام کرتے ہیں، ان کی اختلافی بات کو سنتے ہیں اور درست بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ جہاں بھی کاروبار کرتے ہیں، وہاں کے طرز زندگی، روایات اور کلچر کا پورا احترام کرتے ہیں۔
255 پنجم:ہم اپنی کمٹمنٹ اور وعدوں کو بہرصورت پورا کرتے ہیں، اپنے صارفین ، ملازمین اور سپلائرز کے ساتھ داینت دارانہ برتاؤ کرتے ہیں۔
W1 ششم: ہم جہاں بھی کاروبار کرتے ہیں، وہاں کی مقامی معیشت کو مضبوط کرکے ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو فنی تربیت فراہم کرتے ہیں۔
247 آخری اصول یہ ہے کہ ایسی ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کی ڈویلپمنٹ کے خواہاں ہیں جو عوام کی ضروریات کو بہترانداز میں پورا کرسکے۔
224 بعض ممالک میں کارفور نے اپنی مارکیٹیں اور سٹورز ختم بھی کئے ہیں، ان ممالک میں چلی، چیکوسلواکیہ، ہانگ کانگ، جاپان، میکسیکو، پرتگال، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ان ممالک میں کارفور نے اپنے متعدد سٹور اور مارکیٹیں دوسرے اداروں کو فروخت کردئیے، کمپنی کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ جہاں ہمیں اہداف حاصل نہ ہورہے ہوں، وہاں کاروبار کرنے سے دستبردار ہونے سے ہم عار محسوس نہیں کرتے۔مثلاً ہم 2005 ء میں جاپان اورمیکسیکو، 2006میں جنوبی کوریا، سلواکیہ اور چیک ری پبلک سے 2007ء میں سوئٹزرلینڈ اور پرتگال میں بعض مقامات سے اپنا کاروبار سمیٹ لیا۔ ہم نے طے کیا ہے کہ ہرسال 10لاکھ20ہزار مربع میٹر میں اپنا کاروبار پھیلائیں گے۔
1833 کارفور کا دعویٰ ہے کہ اس کے کاروبار میں پھیلاؤ کی شرح دنیا کے دوسرے کاروباری گروپس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے تیس ممالک میں 12ہزار296سٹورز کاروبار کررہے ہیں۔ جن میں 1481ہائپرمارکیٹیں،3462سپرمارکیٹیں،7181کنوینئس سٹورز اور171کیش اینڈ کیری سٹورز ہیں۔ 5650سٹورز صرف فرانس میں ہیں جبکہ باقی یورپی ممالک میں 5067سٹورز ہیں۔ لاطینی امریکہ میں 876سٹورز، ایشیا میں 406سٹورز جبکہ افریقہ سمیت باقی دنیا میں 297سٹورز ہیں۔ ان کاروباری مراکز میں مجموعی طور پر 381,227 ملازمین خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
1972 کارفور کو اپنی تاریخ میں بعض اہم مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مثلاً 2007ء میں فرانس کی ایک عدالت میں مقدمہ درج ہوا کہ یہ کمپنی جن چیزوں کی فراہمی کا اشتہار دیتی ہے،وہ اس کی مارکیٹوں اور سٹورز میں بالعموم غائب ہوتی ہیں۔اس طرح مقدمہ میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی اپنی اشیاء صرف اس لئے سب سے کم قیمت پر فروخت کرتی ہے کہ وہ ہول سیلرز سے کک بیکس حاصل کرتی ہے۔
1972 سن 2009ء میں فرانسیسی حکومت نے2500شکایات کے جواب میں کمپنی کو دولاکھ20ہزار یورو جرامانہ کیا کیونکہ اس کی گوشت کی مصنوعات پر مناسب ٹریکنگ انفارمیشن نہیں تھی، بعض مصنوعات پر غلط لیبل چسپاں تھے، مثلاً گوشت کے بعض پیکٹوں کا وزن کیا گیا تو وہ 15فیصد کم وزنی تھے، کمپنی کے کاروباری مراکز پر ایسی مصنوعات بھی فروخت ہورہی تھیں جو بہت عرصہ پہلے زائد المیعاد ہوچکی تھی۔
E سن2008ء کے عالمی اولمپکس منعقدہ بیجنگ چین، کے سلسلے کی ٹارچ ریلی کو لندن اور پیرس میں تبتی علیحدگی پسندوں نے ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی جس کا چین میں سخت ردعمل سامنے آیا، یورپی مصنوعات اور کمپنیوں کا بائیکاٹ کیا، بائیکاٹ کی اس مہم کی زد میں کارفور کے کاروباری مراکز بھی آئے۔ چینی اس وقت مزید مشتعل ہوگئے جب انھوں نے یہ افواہ سنی کہ کارفور کے بعض اہم شئیر ہولڈرز دلائی لامہ کو عطیات دیتے ہیں ۔اس پر کارفور چائنا کی طرف سے خصوصی بیان جاری ہوا کہ وہ بیجنگ اولمپکس کے ساتھ ہیں اور اسے نقصان پہنچانے اور چینی قوم کے جذبات مجروح کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
2166 پاکستان میں کیری فور نے جس ماجد الفتیم گروپ کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا ہے، وہ دبئی متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتا ہے۔مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ری ٹیل بزنس اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں کاروبار کررہا ہے۔ 1992ء میں قائم ہونے والا یہ گروپ مجموعی طور پر 13ممالک میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جن میں متحدہ عرب امارات، لبنان، مصر، سعودی عرب، اومان، بحرین، کویت ، قطر، اردن، عراق، آرمینیا، جارجیا اور پاکستان شامل ہیں۔ ماجد الفتیم گروپ کیری فور کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا میں 38مارکیٹیں چلا رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 19ممالک میں 65ہائپرمارکیٹس اور 85سپرمارکیٹیں چلارہا ہے۔ ہائپرسٹار کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طورپر2ارب افراد سالانہ دنیا بھر میں ہائپرسٹار کی برانچز سے شاپنگ کرتے ہیں۔ ان کے سٹاک میں ہر وقت اشیاء موجود ہوتی ہیں۔ہوم ایپلائنسز، گھر میں استعمال ہونے والی دیگر مصنوعات، ٹیکسٹائل،گروسری، بیوریجز اور تازہ خوراک ہر وقت دستیاب ہوتی ہے۔
’ہائپرسٹار‘ پاکستان کا سب سے زیادہ متحرک، سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی ہائپرمارکیٹ چین ہے۔پاکستان میں اس کا پہلا سٹور لاہور میں فورٹریس سٹیڈیم کے بالکل ساتھ ہی کھلا۔یہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ریٹیل گروپ ’’کارفور‘‘کا اپنے مشرق وسطیٰ کے پارٹنر ماجد الفتیم گروپ کے ساتھ مشترکہ ایڈونچر تھا، اس کمپنی نے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں پہلی ہائپر مارکیٹ کھولنے کے بعد کامیابی کی اگلی کہانی کراچی میں رقم کی، اب اسلام آباد میں قدم رکھا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کراچی اور لاہور میں مزید ایک ایک سٹور کھولا جائے گا۔
عالمی سطح پرریٹیل بزنس کاوسیع و عریض تجربہ رکھنے والی یہ کمپنی پاکستانیوں کو بھی وہی معیار فراہم کررہی ہے جو دنیا کے باقی ممالک کے لوگوں کو دے رہی ہے۔کارفور فرنچ انٹرنیشنل ہائپر مارکیٹ چین ہے جس کا نیٹ ورک پوری دنیا میں موجود ہے۔فرانسیسی زبان میں ’کارفور‘ کے معنی جنکشن کے ہیں۔ ریونیو کے اعتبار سے یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ریٹیل گروپ ہے۔ یادرہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ریٹیل گروپ ’وال مارٹ‘ ہے۔کارفور کی مارکیٹیں یورپ، برازیل، ارجنٹائن، ڈومینیکن ریپبلک اور کولمبیا میں ہیں۔اس طرح اس کے سٹور شمالی افریقہ اور ایشیا میں بھی کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔
کارفور کے بانی مارشل فورنئیر اور ڈینس ڈیوفری کے خاندان والے تھے۔انھوں نے اس منصوبے کا آغاز1959ء میں کیا اور پہلا سٹور فرانس کے شہر انیسی میں کھولا۔آج پوری دنیا میں کارفور کے سٹوروں میں سب سے چھوٹا انیسی ہی کا ہے۔بعدازاں ان دونوں خاندانوں نے اپنے کاروبار کو سٹورز کی چین میں بدل ڈالا۔ان دونوں پارٹنرز کی شہرت چار دانگ عالم پھیل گئی۔ چنانچہ انھیں امریکہ میں منعقدہ مختلف کاروباری سیمیناروں میں لیکچرز دینے کی دعوت دی جانے لگی۔ ان کی مہارت اور قابلیت کا اعتراف امریکہ میں جدید ڈسٹری بیوشن کے بانی برنارڈ وترو جیلو نے بھی کیا۔
کارفور کے بانیوں نے دنیا میں پہلی بار ہائپرمارکیٹ کا تصور متعارف کرایا یعنی ایک بڑی سپرمارکیٹ اور ایک ہی چھت کے نیچے ایک بڑا ڈیپارٹمنٹل سٹور۔انھوں نے پہلی ہائپر مارکیٹ15جون1963ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ایک نزدیکی مقام سینٹ جنیوا دی بائس میں کھولی۔ اپریل 1976ء میں انھوں نے ایک نئی سکیم شروع کی جس کے تحت کھانے پینے کی 50اشیاء انتہائی سستی قیمت پر فراہم کرنا شروع کردیں۔ ان میں تیل، بسکٹ، دودھ اور پستہ وغیرہ شامل تھے۔ یہ سکیم اس قدر مقبول ہوئی کہ اس پر بعض سیاسی حلقوں میں بھی بہت زیادہ تنقید کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارفور اپنی سکیم کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے اور ایک سوشلسٹ حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کررہا ہے۔
کارفور نے اپنے پورے بزنس میں جو نعرے متعارف کرائے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا: ہرفرد کے لئے کوالٹی اور چوائس۔ اسی طرح ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ کم قیمت اشیا اور وہ بھی آپ کے گھر سے بہت قریب۔ ایک نعرہ یہ بھی تھا: آپ جو بھی چاہیں گے وہ آپ کو گھر سے قریب تر ملے گا۔
U3 گروپ کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ گزشتہ 40برسوں سے کارفور دنیا کے سب سے بڑے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں سے ایک ہے۔ دنیا کے دوسرے بڑے اور یورپ کے سب سے بڑے ری ٹیل گروپ کی حیثیت سے اس کے پوری دنیا میں 15ہزار سے زائد سٹور ہیں۔ان کی ہائپر مارکیٹیں اوسطاً 8400مربع میٹر پر محیط ہوتی ہیں۔ایک ہی چھت تلے 20ہزار سے 80ہزار غذائی اشیاء یا دیگر مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔ان میں سے ہر آئٹم اتنی سستی ہے کہ دنیا کے باقی سٹوروں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
کارفور کا اپنے پورے بزنس میں صرف ایک ہی چیز پر زور ہوتا ہے کہ صارفین کو سستی سے سستی اشیا فراہم کی جائیں۔اس گروپ کی کامیاب حکمت عملی کا یہی ایک لازمی جزو ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ مقامی لوگوں کی معاشی حالت کا بغور جائزہ لیتا ہے اور پھر ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایسی حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے کہ جو صارف اور خود اس کے اپنے مفاد میں ہو۔کارفور کی انتظامیہ ہر لمحہ اپنی پالیسی اور خدمات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ان ہائپر مارکیٹوں میں کمپیوٹر، موبائل فون اور کریڈٹ کارڈرز وغیرہ بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
کافور گروپ صارفین کو اپنی رہائش کے قریب ترین جگہ سے خریداری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ چاہے وہ شہر میں رہتے ہوں یاپھر شہر کے مضافات میں یاپھر کسی دیہاتی علاقے میں۔ اس کی سپرمارکیٹوں کا رقبہ اوسطاً ایک ہزار سے دو ہزار مربع میٹر تک ہوتا ہے۔ان مارکیٹوں میں دستیاب اشیا میں زیادہ تر غذائی ہوتی ہیں۔یہ اشیا بھی دیگر مارکیٹوں کی نسبت سستی فراہم کی جاتی ہیں۔ اب ان مارکیٹوں پر کپڑے سمیت دیگر سارا سازوسامان دستیاب ہوتا ہے۔
x2 گروپ کے قائم کردہ ہارڈ ڈسکاؤنٹ سٹورز میں ہر دوسرے سٹور کی نسبت 20فیصد کم نرخوں پر اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔یہ سٹور مختلف ناموں سے کاروبار کررہے ہیں۔یہ سٹورز اوسطاً 200سے1000مربع میٹر تک کے رقبہ پر محیط ہوتے ہیں۔یہاں سبزیاں اور پھل بلکہ گھر بھر کی ضرورت کی ہرچیز دستیاب ہوتی ہے۔یہاں مجموعی طورپر 1500سے1800اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔
( اسی طرح گروپ نے کنوئینس سٹورز بھی قائم کررکھے ہیں۔یہ بھی مختلف ناموں سے کاروبار کررہے ہیں۔یہاں ایسی اشیا فروخت ہوتی ہیں جو شہری اور دیہاتی، دونوں طبقات زندگی کی لازمی ضرورت ہوتی ہیں۔ان سٹوروں کو اس نعرے کے تحت چلایا جاتا ہے کہ آپ کوجوبھی چیز چاہئیے، وہ آپ کے دروازے کے نزدیک دستیاب ہے۔فرانس میں ان سٹوروں میں فوٹو ڈویلپمنٹ، ٹکٹ ڈسٹری بیوشن، فوٹو کاپی کی سروس، ٹکٹیں، ڈرائی کلیننگ اور اخبارات وغیرہ کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ ان سٹوروں میں سروس ایریا اوسطاً 50سے900مربع میٹر تک ہوتا ہے۔ سٹور ہوم ڈیلیوری کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔
G2 گروپ نے 1999ء سے ای کامرس بھی شروع کردی۔فرانس میں یہ سہولت بہت مقبول ہوئی ہے۔اس میں فوڈ پراڈکٹس فروخت ہوتی ہیں۔ اس کی فہرست میں قریباً1800اشیاء موجود ہوتی ہیں۔جن میں ڈی وی ڈیز، گیمز، سافٹ وئیرز اور کتابیں بھی شامل ہیں۔بس! ٓپ کو آرڈر دینا ہے اور پھر آپ کی مطلوبہ چیز آپ کے گھر تک پہنچ جائے گی۔
U1 کارفور گروپ کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ وہ سات اصولوں پر عمل کرنے کی وجہ سے کامیابی کا سفر وہ سات اصولوں پر عمل کرنے کی وجہ سے کامیابیوں کا تیز رفتار سفر جاری رکھے ہوئے ہیں:
)1 اول: وہ اپنے صارف کو اشیائے صرف کی ورائٹی فراہم کرتے ہیں اور پھر انتخاب کی آزادی دیتے ہیں۔وہ اپنی استطاعت کی بنیاد پر قیمت ادا کرکے چیز خریدتے ہیں۔
199 دوم: وہ اپنے صارفین، کمپنی ، ملازمین،اداروں اور ماحول کے حوالے سے پوری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
191 سوم:قدروقیمت کو صارفین، ملازمین، شئیرہولڈرز، پارٹنرز اور سپلائرز سب کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔
1751 چہارم:اپنے ملازمین ،سپلائرز اور صارفین ہر ایک کااحترام کرتے ہیں، ان کی اختلافی بات کو سنتے ہیں اور درست بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ جہاں بھی کاروبار کرتے ہیں، وہاں کے طرز زندگی، روایات اور کلچر کا پورا احترام کرتے ہیں۔
255 پنجم:ہم اپنی کمٹمنٹ اور وعدوں کو بہرصورت پورا کرتے ہیں، اپنے صارفین ، ملازمین اور سپلائرز کے ساتھ داینت دارانہ برتاؤ کرتے ہیں۔
W1 ششم: ہم جہاں بھی کاروبار کرتے ہیں، وہاں کی مقامی معیشت کو مضبوط کرکے ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو فنی تربیت فراہم کرتے ہیں۔
247 آخری اصول یہ ہے کہ ایسی ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کی ڈویلپمنٹ کے خواہاں ہیں جو عوام کی ضروریات کو بہترانداز میں پورا کرسکے۔
224 بعض ممالک میں کارفور نے اپنی مارکیٹیں اور سٹورز ختم بھی کئے ہیں، ان ممالک میں چلی، چیکوسلواکیہ، ہانگ کانگ، جاپان، میکسیکو، پرتگال، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ان ممالک میں کارفور نے اپنے متعدد سٹور اور مارکیٹیں دوسرے اداروں کو فروخت کردئیے، کمپنی کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ جہاں ہمیں اہداف حاصل نہ ہورہے ہوں، وہاں کاروبار کرنے سے دستبردار ہونے سے ہم عار محسوس نہیں کرتے۔مثلاً ہم 2005 ء میں جاپان اورمیکسیکو، 2006میں جنوبی کوریا، سلواکیہ اور چیک ری پبلک سے 2007ء میں سوئٹزرلینڈ اور پرتگال میں بعض مقامات سے اپنا کاروبار سمیٹ لیا۔ ہم نے طے کیا ہے کہ ہرسال 10لاکھ20ہزار مربع میٹر میں اپنا کاروبار پھیلائیں گے۔
1833 کارفور کا دعویٰ ہے کہ اس کے کاروبار میں پھیلاؤ کی شرح دنیا کے دوسرے کاروباری گروپس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے تیس ممالک میں 12ہزار296سٹورز کاروبار کررہے ہیں۔ جن میں 1481ہائپرمارکیٹیں،3462سپرمارکیٹیں،7181کنوینئس سٹورز اور171کیش اینڈ کیری سٹورز ہیں۔ 5650سٹورز صرف فرانس میں ہیں جبکہ باقی یورپی ممالک میں 5067سٹورز ہیں۔ لاطینی امریکہ میں 876سٹورز، ایشیا میں 406سٹورز جبکہ افریقہ سمیت باقی دنیا میں 297سٹورز ہیں۔ ان کاروباری مراکز میں مجموعی طور پر 381,227 ملازمین خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
1972 کارفور کو اپنی تاریخ میں بعض اہم مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مثلاً 2007ء میں فرانس کی ایک عدالت میں مقدمہ درج ہوا کہ یہ کمپنی جن چیزوں کی فراہمی کا اشتہار دیتی ہے،وہ اس کی مارکیٹوں اور سٹورز میں بالعموم غائب ہوتی ہیں۔اس طرح مقدمہ میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی اپنی اشیاء صرف اس لئے سب سے کم قیمت پر فروخت کرتی ہے کہ وہ ہول سیلرز سے کک بیکس حاصل کرتی ہے۔
1972 سن 2009ء میں فرانسیسی حکومت نے2500شکایات کے جواب میں کمپنی کو دولاکھ20ہزار یورو جرامانہ کیا کیونکہ اس کی گوشت کی مصنوعات پر مناسب ٹریکنگ انفارمیشن نہیں تھی، بعض مصنوعات پر غلط لیبل چسپاں تھے، مثلاً گوشت کے بعض پیکٹوں کا وزن کیا گیا تو وہ 15فیصد کم وزنی تھے، کمپنی کے کاروباری مراکز پر ایسی مصنوعات بھی فروخت ہورہی تھیں جو بہت عرصہ پہلے زائد المیعاد ہوچکی تھی۔
E سن2008ء کے عالمی اولمپکس منعقدہ بیجنگ چین، کے سلسلے کی ٹارچ ریلی کو لندن اور پیرس میں تبتی علیحدگی پسندوں نے ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی جس کا چین میں سخت ردعمل سامنے آیا، یورپی مصنوعات اور کمپنیوں کا بائیکاٹ کیا، بائیکاٹ کی اس مہم کی زد میں کارفور کے کاروباری مراکز بھی آئے۔ چینی اس وقت مزید مشتعل ہوگئے جب انھوں نے یہ افواہ سنی کہ کارفور کے بعض اہم شئیر ہولڈرز دلائی لامہ کو عطیات دیتے ہیں ۔اس پر کارفور چائنا کی طرف سے خصوصی بیان جاری ہوا کہ وہ بیجنگ اولمپکس کے ساتھ ہیں اور اسے نقصان پہنچانے اور چینی قوم کے جذبات مجروح کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
2166 پاکستان میں کیری فور نے جس ماجد الفتیم گروپ کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا ہے، وہ دبئی متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتا ہے۔مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ری ٹیل بزنس اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں کاروبار کررہا ہے۔ 1992ء میں قائم ہونے والا یہ گروپ مجموعی طور پر 13ممالک میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جن میں متحدہ عرب امارات، لبنان، مصر، سعودی عرب، اومان، بحرین، کویت ، قطر، اردن، عراق، آرمینیا، جارجیا اور پاکستان شامل ہیں۔ ماجد الفتیم گروپ کیری فور کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا میں 38مارکیٹیں چلا رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 19ممالک میں 65ہائپرمارکیٹس اور 85سپرمارکیٹیں چلارہا ہے۔ ہائپرسٹار کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طورپر2ارب افراد سالانہ دنیا بھر میں ہائپرسٹار کی برانچز سے شاپنگ کرتے ہیں۔ ان کے سٹاک میں ہر وقت اشیاء موجود ہوتی ہیں۔ہوم ایپلائنسز، گھر میں استعمال ہونے والی دیگر مصنوعات، ٹیکسٹائل،گروسری، بیوریجز اور تازہ خوراک ہر وقت دستیاب ہوتی ہے۔
